جمعہ، 19 ستمبر، 2014

بیٹیاں

کمی بیشی معاف، مگر ذہن اگر کچھ ساتھ دے رہا ہے تو واقعہ کچھ یوں ہے کہ ایک صحابی آقامحمدؐ کی خدمت میں روتے ہوئے حاضر ہوئے اور کہا کہ زمانہء جاہلیت میں کیا گیا ایک کام انکے ذہن میں ہمیش موجود رہتا ہے اور ایسا کہ جسکا قلق جائے ہی نہیں پاتا اور دل و دماغ مسلسل احساس جرم کے نیچے ایسے پستے رہتے ہیں کہ وزن بڑھتا ہی چلا جاتا ہے۔ آقاؐ نے استفسار کیا تو ان صحابی نے عرض کی اے اللہ کے رسول، زمانہ جاہلیت میں میرے ہاں ایک بیٹی پیدا ہوئی، اسکی کچھ پرورش کی اور وہ کچھ بڑی ہوگئی، مگر گود میں تھی۔ جاہلانہ رسم کے مطابق مجھے وہ بوجھ محسوس ہوئی اور میں نے اسے زندہ دفنانے کا فیصلہ کیا۔ سارے رستہ وہ میری گود میں رہی، مجھ سے چمٹی رہی، اٹھکیلیاں اور اپنی عمر کے مطابق شرارتیں کرتی رہی، بیٹی تھی، شدید احساس تحفظ میں بھی ہوگی کہ میں اپنے باپ، جو میری چھت ہے، کےبازؤں میں اسکی چھتر چھاؤں کے تلے ہوں، کبھی میرے کندھوں پر اپنا مونہہ رکھے، تو کبھی میرے گالوں پر، کبھی میرے بالوں سے کھیلے تو کبھی میرے چہرے پر اپنے ننھے ننھے اور نرم ہاتھ لگائے، کبھی مجھے دیکھ کر ہنسے اور کبھی میری آنکھوں میں اپنی معصوم آنکھوں سے دیکھے اور مسکرائے۔

شہر سے باہر ایک مقام آن پڑا، وہاں میں نے اسے زمین پر لٹایا اور اسکے ساتھ ایک گڑھا کھودنا شروع کیا۔ وہیں لیٹے لیٹے وہ مجھے دیکھے اور قلقاریاں بھرے، میری سمجھ میں نہ آنے والی، مگر اپنی جانب سے شرارت بھرے پیار کی باتیں کرے۔ میں نے گڑھا کھود ڈالا، اور بہت بےدردی سے اپنی اس بیٹی کو کہ جو اپنا نام پہنچانتی تھی، مگر کہہ اور بول کچھ نہ سکتی تھی، مجھے اور اپنی ماں کو جانتی تھی، پیار کرتی تھی، میرے سائے میں محفوظ اور اپنی ماں کی گود میں خوش و خرم رہتی تھی،  اسے میں نے اس گڑھے میں ڈالا اور جیسے ہی اسے وہاں رکھ کر اپنے ہاتھ پیچھے کھینچے، اس نے لپک کر میری ایک انگلی پکڑی اور اپنے مونہہ میں ڈال لی، شاید بھوکی تھی، میں نے جھٹکے سے اپنا ہاتھ پیچھے کھینچا اور اس پر مٹی ڈالنا شروع کر دی، وہ معصوم اپنی معصومیت میں ہنستی تھی، مٹی سے کھیلتی تھی، اور میری آنکھوں میں جھانکتی تھی، آہستہ آہستہ میں نے مٹی اسکے چہرے پر ڈالنا شروع کی تو اسکا سانس اکھڑا اور اس نے اپنی بساط کے مطابق لپک کر میرے بازؤں میں آنے کی کوشش کی کہ شاید گھبرانے سے زیادہ سہم گئی تھی اور میری گود، میرے بازؤں میں آنا چاہتی تھی، مگر میں نہ رکا، میں نے مٹی ڈالنا جاری رکھی، پہلے جو اسے کھیل سمجھ کر ہنس رہی تھی، پھر سہمی، میری طرف لپکی، روئی، میری آنکھوں، میرے چہرے کی طرف دیکھا، روتی رہی، آنکھوں میں شکایت، شکوہ، سوال لیے، اور پھر اسکا چہرہ کسی بھی بددعا کے بغیر ہمیشہ مٹی کے نیچے دفن کر دیا میں نے۔

جانتا ہوں، کہ وہ میری بیٹی تھی، اسے شکایت تو ہوئی ہوگی، مگر اس نے گِلہ نہ کیا اور نہ ہی کوئی بددعا دی ہوگی، جانتا ہوں کہ میرے لیے، اے اللہ کے رسولؐ وہ سراپا اور باعث رحمت و محبت تھی، اس نے اپنی آنکھوں اور ذہن میں سوال تو لائے ہونگے مگر میرے جاہلانہ طرز پر وہ  اپنی جان جاتے ہوئے دیکھ کر میری محبت میں شاید خاموشی سے مر گئی ہوگی۔ بیٹی تھی نا، شاید اس لیے!۔

کہتے ہیں کہ اللہ کے رسولؐ اتنا پھوٹ پھوٹ کر روئے کہ نہ اس سے پہلے انہیں ایسے روتا دیکھا گیا، اور نہ ہی اسکے بعد۔ آپؐ نے اس صحابی کا ہاتھ تھاما، اور کہا کہ جو ہوا، سو ہوا، وہ تمھارا جاہلانہ طرز تھا، جاؤ کہ اللہ تم پر اپنا رحم کرے اور تمھیں اپنی ذات کے سوالات اور جرم کے بوجھ سے بچائے اور ہلکا کرے۔

مجھ سا جاہل گناہگار نہیں جانتاکہ یہ صحابیؑ بروزِ قیامت اپنی اس بیٹی کا سامنا کیسے کریں گے؟ مجھ سا "نہ اِدھر کا، نہ اُدھر کا" مسلمان اس ہمت اور دل و گردے کا تصور کرنے سے قاصر ہے جو اس اک خاص لمحہ میں انکوؑ بحیثیت ایک باپ چاہیے ہوگا کہ جس سے وہ اپنی اس معصوم بیٹی کا  چہرہ دیکھ اور آنکھیں پڑھ سکیں گے۔ نامعلوم یہ کیسے ممکن ہوگا، نہ معلوم یہ کیسے ممکن ہوگا، بخدا۔

زمانہء جاہلیت سے فاسٹ فارورڈ ہوں اور آج کے اسلامی پاکستانی معاشرے میں آ جائیں۔ اس ضمن میں تجربات تو بہت ہیں میرے مگر ایک دو پر ہی اکتفا کرونگا کہ مقصد ڈھول پیٹنا نہیں، اک خیال ہی دینا ہے کہ جن کے ذہن کی زمین زرخیز ہو، انہیں ایک دو خیالات ہی کافی اور جو بھلے پی ایچ ڈی کرتے پھرتے ہوں، مگر ذہن کی زمین پرکبھی ہل ہی نہ چلا ہو، وہ گدھے، اوہ معذرت، کھوتے پر لدی کتابوں کی مزدوری ہی کرے ہیں۔

دو بلاگ لکھے تھے اپریل 2014 کے مہینہ میں، ایک اپنے ذاتی تجربات پر تھا بعنوان "آدھی عورت اور در فٹے مونہہ" جبکہ دوسرا  "آدھی انسان؟۔۔۔گزشتہ سے پیوستہ۔" ان دونوں میں، میں نے پاکستان کے مردانہ معاشرے میں عورت کی آدھی گواہی پر بات کی، اور جواب میں جتنی گالیاں اس دو بلاگز پر پڑیں، وہ میری بیالیس سالہ زندگی میں شاید پڑنے والی گالیوں کا دوگنا ہوں گی۔

میرا مشاہد ہ اور تجربہ ہے کہ  پاکستان میں اسلام کے نام کی  فرقوی و مردانہ تشریحات پر جب ہلکی سی ضرب پڑتی ہے تو مجاہدین اسلام کی غیرت فٹا فٹ جاگ اٹھتی ہے۔ ایسا ہی ہوا اور انہوں نےفورا  بذریعہ گالم گلوچ و تبریٰ اپنا "جہاد فی انٹرنیٹ" شروع کر ڈالا۔ انہی مجاہدین اسلام اور پھر بعد میں تحریک انصاف کے انقلابیوں کی محبت کہ میں نے بلاگ کا کمنٹ سیکشن ڈس-ایبل کر ڈالا۔ اپنے سفید ہوتے ہوئے سر کے ساتھ، ان کاکوں، بلونگڑوں اور جہلا کی بدبُوؤں کو میں کیوں سونگھوں جبکہ ان بدبوؤں کا سب سے پہلا حق خود انکے اپنے دماغ اور آس پاس کے پیاروں کا ہے؟ 

آپ میں سے بہت کم جانتے ہوں گے کہ انسانی معاشروں کی ابتدا مادرانہ برتری سے ہوئی۔ عورت کوقدیم قبائلی معاشروں میں بڑی قدر سے دیکھا جاتا تھا، اور انکی سماجی منزلت آج کے قبائلی معاشروں سے کہیں زیادہ تھی۔ عورت نے نسل انسانی کو تین بنیادی اشیاء فراہم کیں کہ جسکی بنیاد پر ہم آج وہاں کھڑے ہیں جہاں ہیں، یہ الگ بات کہ ہم نے عورت کا ، بحیثیت ایک سماجی گروہ،"رگڑا کڈ ڈالا!" 

عورت نے مرد کو ایک خاندان کی طرح رہنا سکھایا کہ جس سے قبیلے بنے اور یہی قبیلے بعد میں معاشرے اور شہر پھر ملک بنے۔ عورت نے انسان کو زراعت دی، غلہ اگانا اسے محفوظ کرنا، اسے بطور غذا اور  دوا  استعمال کرنا سکھایا۔ اسی لیے آج بھی ایمزون اور افریقہ کے قدیم قبائلی علاقوں میں روائتی طریقہ کار سے علاج و دوا زیادہ تر عورتوں کے ہاتھ میں ہی  ہے۔ عورت نے مرد کو معاشرتی نظم وضبط اور اس وقت کے مروج  قوانین کے مطابق اس وقت کی مہذب زندگی گزارناسکھائی اوراپنےقبیلےمیں قوانین کا نفاذ بھی کیا۔

پھر ہوا یہ کہ مرد  نے آگ اور نیزہ دریافت کیا اور وہیں سے عورت کے قائم کردہ پرامن معاشرے کا تاروپو بکھرنا شروع ہو گیا، اور خیر سے یہ سلسلہ آج تک جاری ہے کہ جہاں آپکو دنیا بھر میں متشدد رویوں پر مردوں کی بلاشرکتِ غیرے اجارہ داری  ملتی ہے۔ آپ خود سے دل پر ہاتھ رکھ کر پوچھ لیں کہ آپکے علم میں آنے والے متشدد اعمال و جرائم میں عورتوں کی، مردوں کے مقابلے میں، کیا نسبت ہے، اور آپکو اس پیراگراف میں میرے بیان کردہ تھیسس کا جواب مل جائے گا!۔

بات نہ چاہنے کے باوجودطویل ہوگئی، اسکی معذرت، اور شاید کہ اپنے مشاہدے میں موجود معاشرتی رویوں پر بات اگلے بلاگ میں کر لوں گا جومشاہداتی  اور اپنی زندگی میں آنے والے  واقعات پر مبنی ہونگے، مگر ایک واقعہ جلدی سے سناؤں اور پھر آخری خیال کے ساتھ آپکا شکریہ ادا کروں۔

میرے ایک عزیز دوست کے ہاں، دو بیٹوں کے بعد بیٹی پیدا ہوئی۔ میں اپنی فیملی سمیت مبارکباد دینے گیا اور راستے میں سے پانچ کلو مٹھائی کی ایک ٹوکری بھی ساتھ لی۔

وہاں پہنچا تو میاں، بیوی اور پیدا ہونےوالی بیٹی کی دادی، پھوپھو، نانی،  اور چاچی وغیرہ کو روتے ہوئے پایا۔ پوچھا تو معلوم ہوا کہ بیٹی کی پیدائش پر رو رہے ہیں۔ میں پہلے پریشان ہوا، پھر حیران اور پھر غصہ آ گیا۔ جواب دیا کہ رو کیوں رہے ہو، دو بیٹے بھی تو ہیں نا۔ آگے سے ملنے والا جواب پاکستانی معاشرے کی عمومی جہالت کا کلائمیکس تھا: "بیٹی کی پیدائش نہیں، بیٹی کے مستقبل کے مقدر سے ڈر لگتا ہے، اسی لیے رو رہے ہیں۔"

 میرا میٹر اور شارٹ ہو گیا اور میں نے کہا کہ بیٹے کے مقدر سے ڈر نہیں لگتا کیا؟ اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ یہ دونوں نیلسن مینڈیلا بنیں گے (یہ میں نے واقعی ہی کہاتھا!) اور تمھاری بیٹی تمھارے لیے مسائل ہی پیدا کرے گی؟ اور اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ یہ دونوں آوارہ نہیں ہونگے اور تمھاری بیٹی ہی تمھارے بڑھاپے میں دادرسی کرنے والی ہوگی۔ آگے سے جواب اور رویہ وہی جاہلانہ تھا، میں غصے میں رہا، اٹھ آیا اور آتے ہوئے اپنی مٹھائی بھی واپس لے آیا، اور کہا کہ میں تم لوگوں پر اپنی مٹھائی ضائع نہیں کرنا چاہتا۔ ان سے تعلقات کچھ عرصہ کےلیے منقطع ہوئے مگر پھر بحال ہوگئے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ وہ دونوں بیٹے کلاس میں پوزیشن ہولڈر نہیں، جبکہ وہ بیٹی، ابھی پرائمری جماعتوں میں ہی ہے، مگر پوزیشن ہولڈر ہے۔ سچ تو یہ بھی ہے یارو کہ اپنے اس دوست کی بابت میں ابھی بھی کچھ زیادہ مثبت نہیں سوچ پاتا۔

خواتین کے بارے میں اپنے رویوں پر کبھی غیرمتعصبانہ طریقے سے غور تو کیجیے گا۔ یہ جو احساس کہ خواتین ہم مردوں سے آدھی ہیں اور بہت سے دیگر سٹرئیوٹائپس جو ہمارے آس پاس خواتین کے حوالے سے پھیلے ہوئے ہیں، ان خیالات کا پراپر ایکیڈیمک سورس کیا ہے؟ کبھی تحقیق کی؟ کہنے کو ہم ایک اسلامی معاشرے میں رہتے ہیں اور بہت بات کرتے ہیں کہ جی اسلام نے عورتوں کو تو بہت حقوق دیے ہیں۔ او بھائیو، اسلام نے توجو حقوق دیے، وہ دیے ہونگے، آپ نے کیا وہ حقوق دیے ہیں اپنے گھروں اور معاشرے میں عورتوں کو؟ اسلام کی فرقوی اور مردانہ معاشرے کی اساس پر کی گئی تشریحات پر، خدارا ٹھنڈے دل و دماغ سے غور کیجیے، اپنے دل کو ٹٹولیے، اپنے آپ سے سوال کیجیے، کہ کہیں آپ بھی تو نہیں اپنی بیٹیوں اور بہنوں کو اپنی معاشرتی، مردانہ اور سماجی  جاہلیت کی مٹی میں زندہ دفنا رہے؟ مجھے اس سوال کا عمومی جواب پہلے ہی معلوم ہے، اسی لیے اپنے کمنٹ سیکشن کو ڈس-ایبل کرنے پر خوش ہوں، مگر پھر بھی اپنی فطری رجائیت کو قائم رکھتے ہوئے آپ سے حسن ظن موجود ہے، اور رہے گا کہ شاید آپ واقعی ہے ایک غیر متعصبانہ غور وفکر کر سکیں۔

روایات کے نام پر موجود تمام اقسام کی جاہلیت سے بچ کر جئیں، اور اگر بچیں گے نہیں، تو صاحبو، جاہل رہیں گے اور جاہل ہی کہلائے جائیں گے۔ شکریہ


پس تحریر: پاکستانی معاشرتی خاندانی اکائیوں کے حوالے سے عورتوں سے سلوک/رویے اور خیالات کے حوالے سے جگ بیتیاں "بیٹیاں-گزشتہ سے پیوستہ" میں اگلے جمعے تحریر کرونگا۔ ان تمام دوستوں کا بھی شکریہ کہ جنہوں نے بلاگ نہ لکھنے کی وجہ پوچھی، محبت بھری لعن طعن کی اور جسکے نتیجے میں خادم کی عالمِ ارواح سے جاری سُستی کچھ دور ہوئی۔ آپ سب کو دلی دعا ہے۔

ہفتہ، 2 اگست، 2014

محترم عمران خان صاحب کے نام کھلا خط

محترم جناب عمران خان صاحب،

آپکا اور میرا کوئی جوڑ بن ہی نہیں سکتا۔ آپ پاکستان کی دوسری بڑی ووٹ لینے والی جماعت کے سربراہ ہیں، اور میرا نام تو میرا ہمسایہ نہیں جانتا، لہذا تقابل میں تو آپ سے بات کرنے کا میرا معیار تو ہے ہی کوئی نہیں، مگر جناب، تین رشتے ہیں آپکے ساتھ:

1۔ میں پاکستانی شہری ہوں،ا ور مستقبل قریب میں کسی دوسرے ملک کا شہری ہونے کا کوئی منصوبہ بھی نہیں رکھتا۔
2۔ میں اسلام آباد کا رہائشی ہوں اور آپکے آنے والے سو-کالڈ "آزادی مارچ" کے جملہ اثرات کا وصول کنندہ ہوں۔
3۔ 2013 کے عام انتخابات میں، میں نے آپکی جماعت کو ووٹ دیا تھا۔

آپکے نام اپنے پہلے کُھلے خط میں، میں نے کچھ عرض کیا تھا اپنے بارے میں اور اس سے قبل کہ آپکی جماعت کے نوجوان مجھے پٹواری  اور انقلاب مخالف وغیرہ ہونے کا طعنہ ماریں، مختصر طور پر عرض کرتا چلوں کہ میں 1993 سے پاکستانی ووٹر ہوں اور سیاسی عمل پر کبھی نہ ہلنے والا ایمان رکھتا ہوں۔ میں نے 1993 اور 1997 کے انتخابات میں پی پی پی کو اور 2002 اور 2008 کے انتخابات میں پی ایم ایل این کو ووٹ دیا تھا۔ 2013 میں آپکی جماعت کی اپیل سے متاثر ہوا اور آپکو ووٹ دیا۔ مجھے بلاشبہ آپکی سیاست سے بعد میں مایوسی ہوئی جو کہ مجھے تشدد کو روا سمجھنے والی چند "دینی سیاسی جماعتوں" کی سیاست کے قریب تر محسوس ہوئی، مگر آپکی سیاست آپکا حق ٹھہرا اور میرے خیالات میرا حق۔ بات کی زیادہ تمہید نہ باندھوں گا اور آپ سے کرنے والی چند باتیں کروں گا۔ ملاحظہ کیجیے گا:-

آپکے سو-کالڈ آزادی مارچ کے کل تین  "حقیقی مطالبات، " میری ریسرچ کے مطابق،  ہیں اور میرے نزدیک وہ تینوں مطالبات برحق، درست، پاکستانی عوام اور جمہوریت کے حق میں بہترین ہیں۔ آپ نے یا آپکی جماعت کے رہنماؤں نے مندرجہ ذیل تین مطالبات کو ہی اپنے آزادی مارچ سے متصل کرکے بذریعہ میڈیا عوام کے سامنے پیش کیا ہے:

1۔ چار حلقوں کی دوبارہ سے گنتی؛ کچھ کہتے ہیں کہ بات اب چار سے چالیس تک جا پہنچی ہے۔  حلقے چار، چالیس یا چار سو ہوں، آپکی بات درست ہے ۔
2۔ پچھلے سال ہونے والے الیکشنز کا آڈٹ۔
3۔ پاکستان میں انتخابی اصلاحات، کہ جس میں الیکشن کمشن آف پاکستان کی اصلاحات بھی شامل ہیں۔

خدا شاہد کہ میرے نزدیک آپکی یہ تینوں ڈیمانڈز درست ہیں، مگر میرے نزدیک انکو حاصل کرنے کا طریقہ نہ صرف درست نہیں، بلکہ پاکستان میں سیاسی انارکی کے ایک مخصوص کلچر کا بھی آئینہ دار ہے کہ جسکی مجھے آپ سے توقع اس لیے نہ تھی کہ آپکو پاکستان کی "پڑھی لکھی مڈل کلاس" کے نوجوانوں نے ووٹ کا اعتماد بخشا مگر آپ نے اپنی سیاست، گفتار اور پارلیمانی کردار میں اپنے اکثریتی حامیوں کو "لِیڈ" تو کیا، مگر "ایجوکیٹ" نہ کرسکے۔

میرا بنیادی خیال یہ ہے کہ یہ تینوں مطالبات "پروسیجرل اور آئینی" ہیں نہ کہ عوامی و سیاسی۔ سڑکوں پر لوگوں کو بھلے لے کر آئیں، مگر وہ مطالبات پھر عوامی ہوں، تکنیکی اور آئینی نوعیت کے نہیں۔ بجلی، مہنگائی، امن عامہ کی صورتحال، معیشت وغیرہ چند ایک معاملات ہیں کہ جن پر سڑکوں پر آنا بنتا ہے، آپکے موجودہ مطالبات کی روشنی میں سڑکوں پر آنا، ریاست کے تکنیکی معاملات کو مزید پیچیدہ تو کر سکتا ہے، انکو حل نہیں کر سکتا۔

مثال کے طور پر موجودہ الیکشن کمشن پر آپکو خود اعتماد نہیں، مگر الیکشن کمشن میں اصلاحات، صرف حکومت نہیں بلکہ پارلیمان کے دائرہ اختیار میں آتا ہےکیونکہ کسی قسم کی اصلاحات کے لیے آئینی ترامیم کی ضرورت ہو گی اور یہ آئینی اصلاحات آپکے چودہ اگست کو سڑک پر بیٹھنے سے ممکن نہیں، پارلیمان کے اندر سے ہی ممکن ہونگی۔ عین اس وقت کہ جب موجودہ پارلیمان ہی الیکشن کمشن میں اصلاحات ممکن بنا سکتی ہے، آپکو اس پارلیمان کو "دھاندلی کی پیداوار" کہتےآئے ہیں، تو گویا آپکو اس پارلیمان کے سیاسی اور آئینی کردار پر بھی بھرپور اعتماد نہیں، بھلے آپ اور آپکی جماعت اسکا حصہ بھی ہیں۔ آپکی ایک اور ڈیمانڈ، کہ الیکشن کا آڈٹ کروایا جائے، تو جناب ، یہ کام بھی الیکشن کمشن ہی کر سکتا ہےا ور اس کام کے لیے کوئی "تھرڈ پارٹی آڈیٹر" تعینات نہیں کیا جاسکتا کہ یہ بھی غیر آئینی ہوگا۔ سیاست کے ایک  ادنیٰ طالبعلم کی حیثیت سے، میں یہ جاننے سے قاصر ہوں کہ جب آپکی ظاہر کی گئی تین ڈیمانڈز ایک دوسرے کے ساتھ ایک دائروی انداز  متصل ہیں اور یہ معاملہ مجھ سا عامی کچھ سمجھ سکتا ہے کہ عوامی نہیں، سیاسی/آئینی/تکنیکی ہے، تو محترم، آپکی جماعت کے سیاسی مشیر اور جفادری کیوں نہیں جان پا رہے کہ ان مطالبات کو پورا کرنے کارستہ قانونی اور پارلیمانی ہے، "سڑکوی اور احتجاجی"  نہیں؟

کچھ تو رہنمائی فرمائیے کہ یہ کیسے ممکن ہوگا؟ الیکشن کمشن کی اصلاحات پارلیمان کا دائرہ اختیار، پارلیمان کو آپ دھاندلی کی پیداوار کہیں، الیکشن کا آڈٹ، الیکشن کمشن کی ذمہ داری اور الیکشن کمشن کی اصلاحات  کی گیندپھر پارلیمان کے کورٹ میں؛ اور یہ بھی یاد رہے کہ آپکے مطلوبہ حلقوں کا معاملہ الیکشن ٹریبیونل میں موجود ہے۔  عجب دائرہ ہے یہ مگر اس گُتھی کو سلجھانے کا آغاز پارلیمان کے ذریعے سے ہی ممکن ہے اور سیاسی عمل کی سُستی کی حقیقت کو جانتے ہوئے، مسلسل سیاسی، پارلیمانی مگر مثبت دباؤ ہی کارگر ثابت ہوگا؛ بلند آواز، نعرے بازی اور دشنام طرازی نہیں۔

آپ بھلے تبدیلی اور انقلاب کی بات کرتے ہوں، جو آپکے ووٹرز کےلیے تو بڑی دلپذیر ہوگی،مگر اصلاحات کے موضوع پر دنیا بھر میں جدید ریاستیں سست روی سے چلتی ہیں کیونکہ تمام فریقین کو ساتھ اور اکٹھا لے کر چلنا پڑتا ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ پارلیمان میں یا پاکستان میں آپکی جماعت ہی واحد جماعت نہیں کہ جو آپ چاہیں، وہی قانون بھی ہو اور اسی ڈگر پر ریاست بھی چلے۔ میں خود تبدیلی کا حامی ہوں، نہ ہوتا تو آپکو ووٹ بھی نہ ڈالتا، مگر محترم، سڑکوں پر سے لاقانونیت تو جنم لے سکتی ہے، اصلاحات نہیں۔ اسی ایک نقطہ پر آپ سے ایک چبھتا ہوا سوال یہ پوچھتا چلوں کہ آپ نے اپنے صوبے میں خود ہی ایک سال میں کتنی "تبدیلی" متعارف کروائی ہے؟ آپ، آپکی جماعت اور آپکی صوبائی حکومت جو مرضی کہتے رہیں، مگر جناب، فاٹاریسرچ سنٹر کی  رپورٹ، جو آپکی حکومت کی ایک سالہ کارکردگی  کے بارے میں تھی، کچھ اور ہی داستان سناتی پائی گئی اور آپکی صوبائی حکومت کی جانب سے اس رپورٹ کے مندرجات پر کوئی مضبوط دلیل اور جواب تاحال ناپید ہے۔ یہاں کچھ سوالات آپکی نذر کرتا ہوں، کہ شاید سوچ کو کچھ مہمیز لگتی ہو:-

اس میں کوئی شک نہیں کہ آپکی صوبائی حکومت نے عمدہ قانون سازی کی، مگر ان پر عملد رآمد کی کیا رفتا ر ہے؟ آپ نے قومی وطن پارٹی سے الحاق ختم کرکے سیاسی دلیری کا مظاہرہ کیا، مگر قومی وطن پارٹی کے "کرپٹ منسٹرز" کے خلاف آپکی حکومت نے کیا تادیبی کارروائی کی؟ یا ابھی تک "نئے خیبر پختونخواہ" میں قانون صرف مجھ سے غریبوں کے لیے ہی ہے؟ آپ نے اپنی جماعت کے وزیر برطرف کیے، اچھی مثال قائم کی، مگر انکے خلاف قانون نے کارروائی کیوں نہ کی ابھی تک یا محض انکی برطرفی ہی انکی انتہائی سزا ٹھہری؟ آپ نے ابھی تک، ایک سال گزر چلا، چیف منسٹر ہاؤس کو لائبریری کیوں نہ بنایا، خود آپکا اعلان تھا کہ آپ ایسے وی آئی پی کلچر کو ختم کر دیں گے؟ آپ نے ابھی تک، ایک سال گزر جانےکے باوجود، بلدیاتی انتخابات کیوں نہ کروائے، آپکا وعدہ تین ماہ کا تھا؟ تاویل بھلے جو مرضی دیں، مگر یہی کام بلوچستان نے کر دکھایا، اور انہوں نے تو کسی انقلاب کی نوید بھی کبھی نہ سنائی تھی۔ آپ نے تین سو پچاس ڈیمز بنانے کا اعلان کیا تھا، اس محاذ پر کیا ترقی اور مثبت پیش رفت ہوئی ہے، کچھ مطلع فرمائیے گا؟  سروے رپورٹس سے ہٹ کر، سنجیدہ ادارے آپکے صوبے کی گورننس کے انڈیکیٹرز کو حوصلہ افزا قرار نہیں دیتے، کچھ نظرکرم اس طرف بھی کب فرمائیے گا؟ آپکے نام پہلے خط میں تحریر کیا تھا کہ کےپی زیادہ تر زرعی صوبہ ہے، اپنی حکومت کی مدت میں ابھی تک کیا زرعی اصلاحات ہوئیں، اور ان پر عملدرآمد کی کیا صورتحال ہے؟ تعلیمی میدان میں آپ نے تعمیرِ سکول پروگرام شروع کیا تھا، اس پر ترقی کی کیا صورتحال ہے؟ علاوہ ازیں، پرویز خٹک صاحب نے ستمبر 2013میں خصوصی طور پر تعلیم کی ترقی و ترویج پر نوٹس لیا تھا، یہ بات کہاں تک پہنچی؟ آپکی صوبائی حکومت کے آزاد احتسابی ادارے کی پرفارمنس ابھی تک کیا ہے اور کتنے بڑے کرپٹ لوگوں کو ابھی تک سزا مل سکی ہے؟ کیا آپکی صوبائی حکومت نے بیرونی امداد کو انکار کیا، بھلے آپ اور آپکی جماعت بیرونی امداد دینے والے ممالک کے خلاف احتجاج کرتے اور جلوس نکالتے رہیں؟ آپکی صوبائی حکومت نے کیا کوئی پیراڈائم وضع کیا ہے کہ جسکے تحت آپکی صوبائی معیشت میں سے آہستہ آہستہ بیرونی امداد کو کم سے کم تر اور پھرختم کر دیا جائے گا؟ آپ نے کراچی میں ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین  صاحب کے خلاف کارروائی کا اعلان کیا تھا، یہ معاملہ کہاں تک پہنچا؟ اسی طرح آپ کے نجم سیٹھی صاحب کے حوالے سے بھی کچھ ارشادات فرمائے تھے، کچھ ذکر ادھر بھی ہو جائے؟ آپ نے جیو ٹی وی کا بائیکاٹ کیا، میں اسکے حق میں نہ تھا کہ سیاست اور میڈیا کا چولی دامن کا ساتھ ہے اور یہ بھی کہ میں جیو ٹی وی کی "نشریاتی سیاست" کا شدید مخالف ہوں، مگر ابھی حال ہی میں آپ نے انکے ساتھ کچھ گفتگو سلطنتِ برطانیہ میں فرما لی، کیوں؟ آپکی جماعت کے ایک سرگرم رکن، جو میرے دوست بھی ہیں، اس بات کے گواہ ہیں کہ میں نے انہیں کیا بتایا/کہا تھا، مگر آپ نے  ایک "شعلہ بیان اور جذباتی ہیجان کے ماہر" ٹی وی اینکر کی بات پر پورے پاکستان میں "پینتی پینچر" کا ڈھول کیوں پیٹا اور اگر آپ ابھی بھی اس بات کو درست جانتے ہیں تو اسکے ثبوت کب مہیا ہونگے؟ اسی طرح انہی نابغہ ٹی وی اینکر صاحب محترم مدظلہ علیہ کے فرمودات عالیہ کو بنیاد بنا کر آپ نے ملٹری انٹیلیجنس کے ایک بریگیڈئیر صاحب کا بھی ذکر کیا تھا، اس پر کچھ مزید گفتگو کب ہوگی؟

سوالات اور بھی ہیں، اور مندرجہ بالا سے بھی مزید چبھتے ہوئے، مگر میں آپکی جماعت کے "پڑھے لکھے مڈل کلاس" نوجوانوں سے پٹواری، سازشی وغیرہ ہونے کا کوئی تمغہ نہیں لینا چاہتا، لہذا نہی کم چبھتے ہوئے سوالات پر ہی اکتفا کرونگا۔

آخر میں ایک سینارئیو آپکی نذر اور آپ سے درخواست کہ اسکا حل بھی بتلائیے گا: آپ چودہ اگست کو اسلام آباد میں "لاکھوں کا مجمع" اکٹھا کرنے کا سوچ رہے ہیں۔ یاد رہے کہ یہ جیتے جاگتے اور آنکھوں میں خواب لیے جذباتی پاکستانی ہیں۔ کچھ بتائیے گا کہ وہ یہاں کتنے دن رہیں گے؟ انسان ہیں، اوپر سے گرمی ہے شدید اور انسانوں کو زندہ رہنے کے لیے جذباتی خوابوں اور پروپیگنڈہ کے علاوہ خوراک، کچھ جسمانی آرام اور دیگر حوائجِ  ضروریہ کی بھی  ضرورت ہوتی ہے، اگر آپکا قیامِ انقلاب ایک دن سے بڑھ کر تین، چار، چھ، دس دن تک محیط ہوتا ہے تو ان معاملات کا کیا انتظام ہے اور اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ شدید جذباتی  سیاسی خواہشات اور انسانی تھکن کے ملن سے جو تشدد جنم لے سکتا ہے، اسکا مداوا پہلے سے ہی آپکے اور آپکی جماعت کے رہنماؤں کے اذہان میں موجود ہوگا؟ تصور کیجیے کہ تیسرے دن، ایک تھکا ہوا جذباتی نوجوان جو گرمی سے تنگ ہے ایک پولیس والے سے بدتمیزی کر ڈالتا ہے اور جواب میں ایک گروہی ذہنیت کی وجہ سے کچھ تشدد جنم لیتا ہے، کہ جسکا حقیقی خطرہ ہے، تو اسکے نتیجے میں ہونے والے نقصان کی ذمہ داری کیا صرف حکومت پر ہوگی یا کچھ حصہ آپکے کندھوں پر بھی ہوگا؟  میں جانتا ہو کہ شاید آپ یا آپکی پارٹی کے چند رہنماؤں کےلیے تو آپکی پارٹی کے ایک نہایت امیر اور جہازوی رہنما کے قریبی گھر سے  خالص دیسی سبزیوں پر مشتمل کھانا اور خالص لائم کی سکنجبین  تو شاید آتی رہے گی، سڑک پر بیٹھے لوگوں کے لیے کیا سلسلہ ہو گا؟ علاوہ ازیں، میرے ایک دوست، خواجہ ناصر، کا کاروبار ہے بلند مرکز، بلیو ایریا میں، جو ڈی چوک کے بالکل قریب ہے، میں جانتا ہوں کہ اس نے ستمبر کے درمیان فرانس کچھ گارمنٹس ایکسپورٹ کرنے ہیں اور اس نے اس کانٹریکٹ کےلیے بہت محنت کی ہے، ایک ہفتہ سے کچھ اوپر نیچے وہ علاقہ بند ہونے کی صورت میں اسکے کاروباری نقصان کی ذمہ داری کس پر ہوگی؟ یاد رہے کہ اسکی چھوٹی بہن کی شادی بھی نومبر میں طے ہے اور وہ اکتوبر میں رقم کی توقع کر کے بیٹھا ہوا ہے بشرطیکہ ستمبر کے درمیان تک اسکا آرڈر پورا ہوتا ہو۔ اس علاقے میں تو سینکڑوں خواجہ ناصر ہونگے، انکے کاروبار وغیرہ کا کیا بنے گا؟

آپ اور آپکی جماعت پاکستانی جمہور کا  لازمی حصہ ہے، مگر جمہور کے لیے سیاست شرط ہے، صرف احتجاج ہی نہیں۔ سیاست اور ریاست سست رو عمل ہوتے ہیں اور مسلسل کام اور جدوجہد چاہتے ہیں، آپکی جماعت کے لوگ کہتے ہیں کہ ابھی ہمیں کے پی میں صرف ایک سال ہوا ہے اور دہائیوں کے بگڑے مسائل ایک سال میں کیسے درست ہوں، تو جناب، یہی فارمولا وفاق اور ریاست کے بگڑے امور پر کیوں لاگو نہیں؟ دھیرج سے مسائل حل ہوتے ہیں، تیز رفتار سے نقصانات ہی ہوتے ہیں۔

 آپکی صحت و ترقی کے لیے دعا گو،

مبشر اکرم
اسلام آباد


پس تحریر: اس بلاگ کو تحریر کرنے کے بعد میں نے کومنٹ سیکشن ڈس-ایبل کر دیا کہ عمومی رائے کا ایک مناسب تجربہ ہے۔ اسی لیے اوپر کہا کہ اکثریتی لوگ "لِیڈ" تو بھلے ہوئے، مگر  اختلافی رائے کے معاملہ میں"ایجوکیٹ" نہ ہوسکے،  بدقسمتی سے۔

ہفتہ، 19 جولائی، 2014

پاکستانی مڈل کلاس کا نوحہ

سوشل میڈیا پر آنے کےلیے آپکے پاس سمارٹ فون، لیپ ٹاپ، ڈیسک ٹاپ کے ساتھ ساتھ انٹرنیٹ کا ہونا بھی ضروری ہوتا ہے جو یقینا جھگیوں اور جھونپڑیوں میں رہنے والوں کے لیے ایک خواب ہوتا ہے۔ کہا جا سکتا ہے کہ سوشل میڈیا پر آنے والے لوئرمڈل سے شروع ہوتے ہیں، اور کچھ نہ کچھ فارمل تعلیم رکھتے ہیں اور مناسب خاندانی تربیت کے حامل بھی ہوتے ہونگے۔ معاشرتی اور سماجی تربیت کی بات نہ کرونگا یہاں کہ اسکے جو حالات ہیں، وہ ہم سب ہی جانتے ہیں۔ میرا مناسب سا مشاہدہ ہے اور کہہ سکتا ہوں کہ پاکستان کے ہی معاشی اور معاشرتی انڈیکیٹرز رکھنے والے دیگر ممالک میں معاشرے کے اس طبقے نے اپنی قوموں کی حالت بدل ڈالی ایک سے دو دہائیوں میں اور جب سنجیدگی سے اس پر غور کیا تو معلوم ہوا کہ اس معاشی اور قومی ترقی میں اس طبقے کے اپنے اپنے کام سے متعلقہ "فوکس" نے یہ معجزات ممکن بنائے۔

یہاں پر دو "بز ورڈز" ہیں: لوئرسےمڈل کلاس اور فوکس۔

میرا تجربہ اور مشاہدہ پاکستانی لوئر تا مڈل کلاس کا صرف سوشل میڈیا تک ہی محدود نہیں۔ کوئی تمغے والی بات تو نہیں، مگر میں مختلف پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کے سلسلہ میں پاکستان کے تقریبا 93 اضلاع میں جا چکا ہوں۔ وہاں سے صرف گزرا ہی نہیں، بلکہ وہاں رکنے اوررہنے کا اتفاق بھی ہوا ہے۔ اس میں فاٹا سے لے کر بلوچستان کے علاقہ تفتان و تربت اور سندھ کے اندرونی علاقے، گھوٹکی، عمر کوٹ، کندھ کوٹ وغیرہ شامل ہیں۔ اپنے اس تقریبا 17 سالہ مشاہدہ اور تجربات کی بنیاد پر کہہ سکتا ہوں کہ پاکستانی مڈل کلاس میں کلاسیکی مڈل کلاس والی عادات کم و بیش کُلی طور پر ناپید ہیں، نہ صرف ناپید ہیں، بلکہ پاکستانی مڈل کلاس،  معیاری مڈل کلاس عادات کے مخالف رویہ کی حامل ہے۔ ممکن ہے آپ میری  بات سے اختلاف کریں، آپکا حق ہے، مگر میں محسوس کرتا ہوں کہ وہ معیاری مڈل کلاس عادات کہ جنکی بدولت معاشروں، ذہنوں، لوگوں اور نظریات میں تحریک رہتی ہے، ہمارے ہاں ایک تسلسل سے غائب ہی ہوتی چلی جا رہی ہیں۔ کوئی غلط نہ سمجھے، مگر آرگیومنٹ کی خاطر کہنا یہ ہے کہ ان معیاری عادات کے مسلسل غائب ہونے سے جو معاشرتی خلا پیدا ہورہا ہے، قریبا پچھلے پچیس سالوں سے، وہ خلا انواع واقسام کی مذہبی، فرقوی اور نسل پرست جماعتیں پُر کر رہی ہیں، اور کافی کامیابی سے، در حقیقت۔ یہ خطرے کی وہ علامت ہے جو کبھی کبھار مجھے پاکستان، پاکستانی معاشرے اور اسکے لوگوں کے ایک صحتمندانہ مستقبل سے مایوس بھی کرتی ہے، مگر زندگی تو رجائیت میں ہی جی جاتی ہے، دوستو، تو کچھ دیر بعد، دوبارہ سے سنبھل جاتا ہوں۔

پاکستان میں موجود اکثریتی مذہبی اور قوم پرست جماعتیں اپنی اپنی طرز کے نظریات بیچ رہی ہیں اور آپ بھلے نہ مانیں، آپکو ان سب میں ایک چیز مشترک ملتی ہے: تشدد یا ایک ملفوف انداز میں تشدد کی حمایت۔ اب اوپر بیان کیے گئے سماجی خلا، کہ جو معیاری مڈل کلاس عادات کی غیر موجودگی معاشرے میں پیدا کرتی ہے، کو اگر مذہبی، فرقوی اور قوم پرست جماعتیں اپنے اپنے نظریات سے پُر کریں گی تو آپکو اسکے نتیجہ میں معاشرے میں وہی رجحانات کی بہتات ملے گی اور لوگ شعوری یا غیر شعوری طور پر انہی نظریات کو سماجی قوانین گرداننا شروع کر دیتے ہیں اور پھر وہ سماجی روایات بن جاتی ہیں۔ یہاں پر مسئلہ یہ بھی درپیش ہے کہ وہ بڑی سیاسی جماعتیں جو وفاق کی سطح پر کام کررہی ہیں،  چونکہ وہ بھی معاشرے کی اسی بنوتری سے اپنے سپورٹرز وصول کرتی ہیں،ا ور اس پراسس میں اپنے ہمدردوں کی کوئی تربیت نہیں کرتیں، لہذا ان میں بھی آپکو اسی قسم کے تشدد کی لہریں نظر آتی ہیں، چاہیں وہ شہباز شریف صاحب  کے خاندان کی ایک خاتون کا بیکری والے پر تشدد ہو، شیریں مزاری صاحبہ کی زبان دانی، پیپلز پارٹی والوں کا جاگیردارانہ کنٹرول، ایم کیو ایم کا شہری تشدد، جماعت اسلامی کا اپنا متشدد نظریہ، قوم پرستوں کا تشدد کی بلاواسطہ حمایت کرنا وغیرہ، شامل ہے۔

پاکستانی، بالخصوص شہری، اور اس میں سے بھی بالخصوص/بالخصوص پنجابی، شہری طبقات نے اپنی اپنی طرز کی عدم برداشت پال رکھی ہےاور بہت ساری مڈل کلاس عادات پر اس عدم برداشت کے کڑے پہرے بھی ہیں۔

دنیا کے جن ممالک نے بھی معاشی اور معاشرتی ترقی کی، اس میں مڈل کلاس ہی صفِ اول میں رہی۔ یہ کلاس معاشروں کا "چینج انجن" ہوتی ہے اور ایک بڑی تبدیلی ممکن بناتی ہے۔ بل گیٹس، سٹیو جابز، گورڈن مُور، رابرٹ نوئس، لکشمی مٹل، جمسیٹھ جی ٹاٹا اور ایک بہت لمبی فہرست لوگوں کی آپکو ملتی ہے جو بھلے آج تو ارب/کھرب پتی ہوں، مگر انکی شروعات لو/مڈل کلاس تھیں۔ بل گیٹس اور سٹیو جابز نے تمام دنیا کے کام کرنے کی عادات کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بدل ڈالا، وہ مڈل کلاس تھے، اور فوکسڈ تھے۔

مڈل کلاس کے عمومی معیارات میں سے کچھ یہ ہیں: مڈل کلاس معاشرے میں رواداری کو بنا کر رکھتی ہے، برداشت کو سنوارتی ہے، فنون کو مدد فراہم کرتی ہے، اپنی جدوجہد میں اپنے سے نیچے والوں کے لیے معاشی، معاشرتی و سماجی مواقع پیدا کرتی ہے، اپنے سے بالا طبقات کے ساتھ جڑ کر رہتی ہے اور ان سے مختلف حیثیتوں میں اپنے معاشرے، لوگوں اور ملک کےلیے بہتری کے کام کرواتی ہے۔  مڈل کلاس جانتی ہے کہ معاشرتی نظم،  صرف اور صرف باہمی احترام اور برداشت پر قائم ہوتا ہے، اس لیے یہ اسکی حفاظت اور ترویج کرتی ہے۔ یہ کلاس کتب بینی کرتی ہے، سینما جاتی ہے، موسیقی سنتی ہے، اپنے بچوں کے بارے میں نہایت سنجیدگی سے انکی ترقی کی راہیں بذریعہ تعلیم متعین کرتی ہے، معاشرے میں ایلیٹ اور غرباء کے تعلق کو قائم رکھوا کر ایک توازن اور آرڈر مقرر رکھتی ہے۔ یہ کلاس سیاحت کرتی ہے، اپنے گھروں پر خرچ کرتی ہے، شدید معاشی جدوجہد کرتی ہے کہ جس سے روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور معاشرے میں معاشی تحریک پیدا ہوتی ہے۔ مڈل کلاس اپنے معاشرے کے روایتی تصورات کی امین ہوتی ہے، دوستیاں پالتی ہے، تعلقات نبھاتی ہے، معاشرتی نظم کی سب سے بڑی بینیفشری ہوتی ہے،  عموما اپنے سے بہتر کلاس اپنی اگلی نسل کے لیے چھوڑ کر جانا چاہتی ہے۔ یہ کلاس اپنی جدوجہد میں ایجادات کرتی ہے، نئے نئے، چھوٹے بڑے، کام کرتی ہے، نئے نئے آئیڈیاز اور تصورات کے ساتھ مارکیٹ میں آتی ہے، ناکام ہوتی ہے تو پھر سے کوشش کرتی ہے، کوشش کرتی ہے تو کامیابی کےلیے جان مارتی ہے، شہروں میں آکر قبائلی سوچ سے دور رہنے کی کوشش کرتی ہے، اسی کلاس میں اپنے سے دوسرے لوگوں کے ساتھ تعلقات بڑھاتی ہے اور اسی سلسلہ میں  نئے خاندان، نئے نظریات اور نئی نسلیں تشکیل پاتی ہیں۔ یہ کلاس عموما مضطرب ہوتی ہے، کچھ کرکے دکھانا چاہتی ہے، سیاسی اور معاشرتی تبدیلی کی علمبردار ہوکر ریاست، ملک اور لوگوں کی زندگیاں بہتر بنانا چاہتی ہے، ذمہ داری لیتی ہے اور پھر اس ذمہ داری  کی انجام دہی میں کئی مزید مواقع تلاش اور پیدا کرتی ہے۔

  یہی کلاس، صاحبو، معاشرے، ملک، ریاستیں، اور تاریخ بدلتی ہے۔ 

اب اپنے دلوں پر ہاتھ رکھ کر اپنے آپ سے یہ سوال پوچھیں کہ اوپر کے ایک مختصر پیراگراف میں سے کتنی عادات آپکو پاکستانی مڈل کلاس میں ملتی ہیں؟

اکثریتی: سرکاری نوکری کے متوالے، کام سے بھاگنے والے، کام لے کر ذمہ داری سے پورا نہ کرنے والے، تقدیر کے جبر کو اپنی ذات اور ذہن کے مطابق دل سے تسلیم کرنے والے، گفتگو کے فن سے قریبا نابلد، تحریر سے دور، کتب بینی کی حالت یہ کہ بیس کروڑ لوگوں کی آبادی میں کتاب کے ایڈیشن پانچ سو سے زیادہ نہیں چھپتے، ہزاروں شہر/قصبوں میں سینماؤں کی تعداد دو درجن سے کم، کھیلنے کے میدان ناپیداور اس پر مکمل خاموشی،  نوجوانوں کےلیے مواقع ناپید، اس پر مکمل خاموشی، ستر ہزار پاکستانی قتل کردئیے گئے، اس پر مذہبی، سیاسی، سماجی تاویلیں، موسیقی حرام، فلم حرام، کو ایجوکیشن حرام، خواتین کا معاشرے میں آگے بڑھنے کےلیے کوشش کرنا قریبا قریبا مکروہ، زبانی، ذہنی اور جہاں ممکن ہو جسمانی تشدد کی لائن پر موجود اندھی سیاسی اور مذہبی تقلید اور اس تشدد کے مظاہرے کےلیے ایک خاموش خواہش اور مرضی بھی اور اس تشدد کے اظہار کو طاقت جاننا بھی۔ذات پات، قبائلیت، دماغی تعصبات، اندھی تقلید، سوال پر فوری ردعمل، جارحانہ اشارے، سیاسی، معاشرتی مذہبی شدت پسندی عام۔ اپنے محدود تجربہ میں مجھے دنیا کے کسی دوسرے معاشرے میں 70ہزار شہریوں کے قتل ہو جانے کی توجیحات دینے والے شاید نہیں ملیں گے، یہاں وافر ملتے ہیں، سیاسی بھی، مذہبی بھی، اور سماجی بھی۔

"تمغے" اور بھی ہیں، مگر چھوڑئیے کہ اتنا ہی کافی اگر سوچ کو کوئی مہمیز ملتی ہے تو، اور اگر اس سے بھی نہیں ملتی، تو مزید تمغے بھی بےاثر ہونگے۔

دلی معذرت کہ بات لمبی ہوگئی، مگر پاکستانی مڈل کلاس کا نوحہ پڑھنا تھا کہ مجھے اپنے بچپن کا پاکستان بھی بہت اچھی طرح یاد ہے۔ پاکستانی مڈل کلاس کا نوحہ پڑھنا تھا کہ اس کلاس کو اپنے معاشرتی، سماجی اور تہذیبی نقصان کا معلوم ہی نہیں ہو چُک رہا۔

اگر اس مضمون نے آپکو کچھ/کچھ/کچھ بھی سوچنے پر مجبور کیا ہوتو محنت وصول ہوئی، اور اگر جواب میں آپکے پاس دشنام، تنقید اور ردعمل ہی ہے تو میں اپنی ذات میں بہت کلئیر ہوں کہ میں نےایک لمبا عرصہ جان مار کے معاشرتی مڈل کلاس کے آس پاس رسائی حاصل کی ہے اور ویسا ہی معیاری رویہ بھی اپنانے کی کوشش کی ہے۔ جان چکا ہوں کہ مڈل کلاس، یا اس سے بہتر، زندگی ہر انسان کا بنیادی حق ہے، مگر اسکے لیے جان مارنی اورمخصوص رویے اپنانا پڑتے ہیں۔ میں اپنے اس حق کا ہر جگہ، ہر فورم پر دفاع کرتا ہوں، اور کروں گا۔ آپ سب سے بھی گزارش ہے کہ کچھ  آزاد ذہن کے ساتھ، دوستو، اپنی ذات پر خود سے ڈالے کڑے پہرے ہٹا کر تو دیکھو، زندگی آسان بنے گی، آپکی بھی اور دوسروں کی بھی۔

ابھی تک اگر آپ معیاری مڈل کلاس رویوں کے حامل نہیں رہے، آج سے کوشش تو کرکے دیکھیے۔ بھلا ہوگا، میں پورے یقین سے کہتا ہوں۔

پیر، 23 جون، 2014

مولوی اور مصیبت

علی حمید میرا یار ہے، جگری۔ کبھی کبھار کہتا ہے: "مبشر بھائی، یہ مذہب و ملا کے حوالے سے زیادہ باتیں نہ کیا کریں۔ ہمارے لوگوں کو سوچنے کی زیادہ عادت نہیں، اور وہ آپکو پھر لیبل بھی کر دیں گے۔" میں اسکی بات اسکے سامنے ہمیشہ مان لیتا ہوں، مگر کیا کروں، آجکل جیسے حالات دیکھتا ہوں تو دل جلتا ہے، دل جلتا ہے تو پھر یارو، زبان بھی جلتی ہے۔ لہذا، علی جانی، بس ایک مرتبہ اور (اور یہی بات میں اگلی مرتبہ لکھنے/بولنے پر بھی کہوں گا، تُو جانتا ہی ہے!)۔

یہ بلاگ میں ان تمام پاکستانی نوجوانوں کے نام کرتا ہوں جو مُلائیت میں اسلام اور  ملاؤں میں شرع اور ان دونوں میں اسلامی نشاۃ ثانیہ اور انقلاب  تلاش کرتے رہتے ہیں۔ زیادہ تفصیل میں نہ جاؤنگا، بس جلد جلداپنی ذات کے تجربہ اور مشاہدات پر مبنی واقعات آپکی نظر کرونگا۔

میں پانچ یا شاید چھ سال کا تھا جب ملکوال میں سوِل ہسپتال کے آفیسر، ڈاکٹر مبشر احمد کے خلاف مظاہرے ہوئے کہ ڈاکٹر صاحب چونکہ احمدی تھے، لہذا انکو وہاں سے ہٹایا جائے اور تمام کائنات کا اسلام بچایا جائے۔ ڈاکٹر صاحب وہاں کئی سالوں سے تھے، نہایت ملنسار، اپنے کام سے مخلص اور معاملات میں دیانتدار تھے۔ ملکوال ان دنوں چھوٹا سا خاموش قصبہ تھا اور وہ راتوں کو بھی لوگوں کے گھروں میں جاکر انکو خدمات مہیا کرتے تھے اور اسکا معاوضہ بھی نہ لیتے تھے اور میں اس بات کا چشم دید گواہ بھی ہوں۔ خیر سے جامع مسجد بزم توحید (دیوبندی)، بڑی جامع مسجد (بریلوی) اکٹھے ہوئے اور پورے قصبہ میں ایک "دماغی آگ" لگا ڈالی۔ لوگ تنی کمان اور دو تین دن میں ہی یہ معلوم پڑا کہ ڈاکٹر صاحب پر شاید حملہ بھی کیا جائے۔ میرے والد صاحب، جو اس وقت اور اب بھی، بھٹو کے ڈسے ہوئے تھے،  ڈاکٹر صاحب کی عزت کرتے تھے اور شاید تیسرے دن کی آدھی رات، ڈاکٹر مبشر احمد اپنے خاندان سمیت ہمارے گھر کے دروازے پر پناہ کے لیے آئے۔ میرے والد صاحب  پی پی پی کے وائس چئیرمین تھے اور علاقے میں انکا کافی نام تھا ۔ انکار نہ کیا اور ڈاکٹر صاحب گھر تشریف لے آئے۔ کوئی  رات دو بجے فدائینِ اسلام ہمارے دروازے پر آن دھمکے اور بدتمیزی کی کوشش کی اور والد صاحب کو دھمکیاں بھی دیں۔ ابُو نے اپنا لائسنسی ریوالور نکال لیا اور کہا کہ جو بھی میرے گھر کی دہلیز پار کرے گا، اسے میری لاش کے اوپر سے ہی جانا پڑے گا۔ میں اس بات کابھی چشم دید گواہ ہوں۔ ان دنوں اسلحہ شاذ ہی تھا کہ یہ بعد میں "شہید غازی ضیاءالحق مدظلہ علیہ رحمہ" کی مہربانی سے پاکستان کا زیور بنا، لہذا تھوڑی دیر کی گفتگو کے بعد، مجاہدین اسلام پسپا ہوئے۔ ابُو نے ڈاکٹر صاحب کو مشورہ دیا کہ ملکوال اب انکے رہنے کی جگہ نہ رہا تھا، لہذا وہ یہاں سے روانہ ہوجائیں، ڈاکٹر صاحب نے ایسا ہی کیا اورانکے جانے کے کچھ دنوں بعد، سوِل ہسپتال ملکوال میں جامع مسجد بزم توحید کے خطیب کا سالا وہاں کا ڈاکٹر اور بڑی جامع مسجدکے خطیب کا ان-کوالیفائیڈ بیٹا کمپاؤنڈر تعینات ہو گیا۔ اور یہ یقینا ایک عظیم معجزہ ہی ہوا ہوگا کہ اللہ اپنے نیک بندوں کو یہاں بھی اور اوپر بھی نوازتا ہے، بلاشبہ۔

ملکوال میں ہی صدیقی صاحب تھے۔ فوت ہوگئے ہیں اور انکا پورا نام بھی یاد نہیں۔ انکی منیاری کی دکان تھی اور دو بیٹوں کے ساتھ دکانداری کرتے تھے۔ کٹڑ دیوبندی تھے اور مقامی تبلغی جماعت کے امیر بھی۔ خیر سے سود پر پیسے دیتے تھے اور پیسے کی وصولی میں پوری ایمانداری کا مظاہرہ کرتے تھے۔ سود پر پیسے دینے کے علاوہ انکا ایک کام یہ بھی تھا کہ بیٹوں کی شادیاں کرتے، جہیز وصول کرتے اور پھر بعد میں طلاق عنایت کروا دیتے کہ اتنے نیک انسانوں میں ان گناہگار عورتوں کا کیا کام تھا بھلا؟ میرا ان سے ٹاکرا ایک مرتبہ جامع مسجد بزم توحید کے مؤذن، فتح محمد کی نوکری ختم کرنے کے حوالے سے ہوا، میں ان دنوں بڑا پکا دیوبندی تھا اور نمازعصر کے بعد اس محفل میں شریک تھا جب اس مسکین کی نوکری ختم کرنے کی بات چیت کی جا رہی تھی۔ میں نے انہیں کنفرنٹ کیا، اپنی نوجوانی کے جنون میں، تو انکا فقرہ ابھی تک یاد ہے:" تم ہم میں سے ہو ہی نہیں، تمھارا باپ شاید بریلوی ہے۔" کچھ بات بڑھی، مگر میں بہرحال فتح محمد کی نوکری نہ بچا سکا۔ موصوف شاید اس وقت حوروغلمان کے ساتھ شراب طہورہ سُڑوکے مار مار کے پی رہے ہونگے اور مجھ کم نصیب کے لیے ستُو بھی مہیا نہیں، آہ!

اللہ بخشے، ماسٹر اکبر شاہ صاحب۔ سر سے لیکر پاؤں تک بھیگے ہوئے بریلوی تھے۔ بھیرہ کے پیر، پیر کرم شاہ صاحب ایک دن ملکوال آئے، تو مجھے یادہے کس طرح لوگوں نے انکی پیجیرو کے ٹائروں پر ہاتھ مل کر اسکی مٹی اپنی آنکھوں میں پھیری تھی، ماسٹر صاحب بھی شامل تھے۔ ماسٹر صاحب، نیک اور صالح آدمی تھے مگر سکول کے بعد ٹیوشن پر زیادہ زور دیتے تھے اور سکول کے دوران "مولا بخش" سے ہماری "ڈُھونڈریاں" سرخ کرے یا پھر نماز ٹھیک کرنے کی تلقین بھی کرتے۔ ایک مرتبہ کہا کہ جو شخص دورانِ رکوع گھٹنوں پر ہاتھ ایسے رکھے کہ اسکی انگلیاں گھٹنوں سے آگے نکلی ہوں تو روزِ قیامت، وہ انگلیاں آرے کے ساتھ کاٹ دی جائیں گی۔ وہ دن اور یہ دن، یہ رندِ خراب اپنی انگلیاں ہی بچاتا پھر رہا ہے۔ اپنے تئیں اسلام کی مکمل تصویر تھے، مگر اپنے ہوتے ہوئے کسی جونئیر کی پروموشن نہ ہونے دیتے تھے۔ آخر کو صلہء رحمی کی اپنی تشریح میں خود کو اور اپنے قریبیوں کو ہی سب سے آگے رکھنا فرض تھا شاید۔

اپنے ایک شیعہ ذاکر بھی ملکوال میں تھے، عاشق حسین صاحب۔ اعلیٰ ذکر کرتے اور بہترین مرثیات پڑھتے تھے۔ ذاکر ہونے کے علاوہ اسم بامسمیٰ بھی تھے اور ایک نوعمر لڑکی کے ساتھ عشق فرماتے فرماتے ایک بچے کے باپ بننے کی طرف سفر بھی شروع کر دیا اس خاتون سے شادی کے بغیر۔ منڈی بہاؤالدین کے کسی گندے سے کلینک میں اس بےچاری کو لے گئے اور اسقاط کروانے کے پراسس میں اسکی اور اسکے بچے کی جان گئی۔ چونکہ آقا حسینؑ کے اپنے تئیں سچے عاشق تھے، اور نام بھی عاشق حسین تھا، لہذا، بھاگنے میں عافیت جانی اور کئی سال غائب رہنے کے بعد ہی وارد ہوئے۔ انکے دیگر معاملات بھی ہیں، مگر ذات کے حوالے سے گناہ ثواب پر بات کرنا میرا ظرف نہیں، اور جو بھی تحریر کیا ہے، ان حضرت کی اس منافقت کو بیان کرنے کےلیے کہ شاید کسی کے دل میں بات اترتی ہو۔ خیر سے موصوف اب بھی آقاحسینؑ سے عشق کرتے ہیں اور دس محرم سے چالیسویں تک کوئی بیس سے پچیس لاکھ روپے جمع کرلیتے ہیں اور پھر ان پیسوں میں سے کچھ پیسے خرچ کرکے، تھائی لینڈ اور چین اسلام پھیلانے جاتے ہیں اور بہت سی بدبخت اور جہنم کے جانب روانہ خواتین کو راہِ جنت پر گامزن کروا کر ہی واپس آتے ہیں۔

خان محمد قادری صاحب بڑے جوشیلے بریلوی مقرر تھے ملکوال میں۔ خوب فرقہ واریت بھڑکائی اور ملکوال سے ترقی کرتے ہوئے لاہور جا پہنچے۔ وہاں بھی حسبِ عادت سماج سدھار کا ٹھیکا اٹھا لیا اور ایک مقامی بدمعاش کو ایک خطبے میں رگڑا لگا دیا۔ کچھ رکھ رکھاؤ والے بدمعاش تھے وہ صاحب شاید، وہ شام کو مولانا قادری صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ جناب  مجھے اپنی خطابت سے باہر ہی رکھیں کہ یہ لاہور ہے، ملکوال نہیں۔ اور "ایتھے بندہ مر جائے یا کُتا، پُچھدا کوئی نئیں جے!" مولانا صاحب کی ساری حریت بذریعہ "قادری انجلاب" بہہ گئی اور اسکے بعد کبھی انکے مونہہ سے ان بدمعاش صاحب کی شانِ عظیم میں گستاخی نہ ہوئی۔ بلاشبہ زندگی اور موت تو خدا کے ہاتھ میں ہے، مگر صرف میری اور آپکی، قادری صاحب اپنی باری پر سیانت فرما گئے۔

اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کے دوران مجھے کوئٹہ کے ایک پشتون بھائی، فضل کریم، سے ملاقات کا موقع ملا۔ انکا بیٹا اسلام آباد کی ایک سب سے بڑی اہلحدیث مسجد و مدرسہ میں طالبعلم تھا اور ایک استاد محترم کے منظور نظر بھی جو اس بچے سے موقع کی مناسبت سے "زیادتی فرما لیا کرتے" تھے۔ فضل سے میرا رابطہ بچوں کے جنسی استحصال کے خلاف کام کرنے والی ایک این جی او کے توسط سے ہوا اور اپنی پیشہ وارانہ اہلیت اور چند دوست ہونے، اور بھرپور کوشش کرنے کے باوجود بھی میں ان استاد ذی احترام کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہ کرا سکا، بلکہ فضل کو ان کا اپنا بیٹا بھی کوئی تین ماہ کی مسلسل جدوجہد کے بعد ہی اس عظیم مدرسہ سے دلوا سکا اور اس سلسلہ میں میرے ایک اہلحدیث دوست، جو انکے سیاسی رہنما بھی تھے/ہیں، نے مدد کی۔ وگرنہ وہ استاد صاحب تو اس بچے کے ساتھ "شفقت" فرماتے ہی چلے جاتے۔ اس قضیہ میں مدرسہ کی انتظامیہ نے بھی بھرپور طریقے سے اپنے استاد کاساتھ دیا اور عین اس صبح وہ شاید یہ پڑھا کر آتے ہوں کہ کیسے میرے آقا محمدﷺ نے فرمایا تھا کہ اگر جرم فاطمہؑ بھی کرتیں تو انکا ہاتھ بھی کاٹ دینے کا حکم دیتا! مگر چھوڑیں جی۔ کہاں ایک غریب کوئٹہ وال کا بچہ اور کہاں ایک محترم استاد؟ یہ انصاف وغیرہ تو باتوں میں ہی اچھا لگے ؛ ہیں نا جی؟

اسلام آباد میں ایک مشہور اخبار تھا "مرکز" کے نام سے۔ اسکا دفتر اس وقت کے امریکی معلومات کے دفتر کے سامنے تھا بلیو ایریا میں۔ سلمان رشدی کی کتاب کے خلاف شدید مظاہرہ ہو رہا تھا، اور شیدائینِ اسلام و فدائینِ ناموسِ رسالتؐ ایک برطانوی مصنف کی تصنیف پر عدل کے تقاضے پورے کرتے ہوئے پاکستان میں امریکی سفارتی عمارت کے سر چڑھنے جا رہے تھے۔ کیا ہی اعلیٰ فہم پایا ہے میری قوم نے انصاف و عدل کا، یقینا!   قیادت "بطل حریت" مولانا عبدالستار نیازی فرما رہے تھے کہ آنسو گیس کے بعد پولیس نے فائرنگ کر ڈالی۔ آٹھ افراد جان سے گئے اور مولانا صاحب بھاگ کر مرکز کے دفتر پہنچ گئے۔ وہاں کے ان دنوں کے ایڈیٹر، جوبعد میں میرے بزرگ دوست بنے اور اب وفات پا چکے ہیں، نے بتایا کہ مولانا صاحب شدید گھبراہٹ میں تھے اور کہا کہ  معلوم نہ تھا گولی چل جائے گی اور "بڑی مشکل سے جان بچی!" اور وہ جو آٹھ مارے گئے، وہ تو بلاشبہ انسان تھے ہی نہیں۔ اتفاق ہے مولانا صاحب مرحوم، مکمل اتفاق ہے۔

اور بھی بہت کچھ دیکھا بھالا زندگی میں، پھر کبھی تحریر کرونگا۔ مگر اب بہت کوئیکلی، چار واقعات  و مشاہدات جو کینیڈین مداری، قادری شکاری کے انقلاب کی  زینت کی حوالے سے آپکی نذر کر رہا ہوں:

1۔ کل رات، مورخہ 22 جون کو میں نے اپنے دوست کی بیگم، جو ماں بننے والی تھی، کو خون دینے قائدِ اعظم انٹرنیشنل ہسپتال، پشاور روڈ جانا تھا۔ آفس سے نکلا اور وہاں کا رخ کیا تو کوئی ایک گھنٹہ ٹریفک میں الجھا رہا۔ قصہ مختصر کہ میں خون دینے نہ پہنچ سکا، مگر ٹویٹر پر ایک رحمدل دوست نے آرمی کے ٹرانسفیوژن سنٹر رابطہ کرنے کا کہا۔ دوست کو یہ مشورہ دیا تو عین آخر وقت میں خون کی دوبوتلیں ارینج ہوئیں، اور خاتون اور بچے کی جان بچی۔ انقلاب مبارک ہو قادری صاحب۔

2۔ آج صبح، میری ایک رشہ دار، مسرت باجی، نے چکوال سے فون کیا اور پوچھا کہ کیا اسلام آباد کی انٹرنس بند ہے؟ کنفرم کرنے پر بتایا کہ انکی بیٹی اور ساتھ میں گاؤں کی دو بچیوں کے  نسٹ میں انٹری ٹیسٹ تھے، جو وہ اس عظیم انقلاب کی بدولت نہیں دے سکیں گی۔ قادری صاحب نے تین نسلیں برباد کر ڈالیں کہ یہ تین بچیاں اب شاید وہ موقع زندگی میں حاصل نہ کر پائیں اور میاں صاحب کی عظیم فہم و فراست پر بھی "عقیدت کے چار حرف" کہ 2014 میں بھی 1014 جیسی ذہنیت کے ساتھ حکومت چلا رہے ہیں۔ مگر خیر ہے، قائدِ انقلاب کے اپنے بچے تو باہر کی یونیورسٹیز میں پڑھ لیے، اور قائدِ اعظم ثانی کی اولاد تو یہاں ہوتی ہی نہیں، لہذا، انکو بھی کیا فکر؟ "پر یار شباز، ایہہ موٹر وے سمندر وچوں کڈ کے سدھا جدے تیکر تے لے جا!"

3۔ آپ میں سے کسی کو یاد بھی ہے ان بارہ مرنے والوں کے نام جو 12 ستمبر 2012 کو یوٹیوب پر ویڈیوکے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اسلام آباد میں مارے گئے تھے؟ وہ بھی اسلام کے نام پر مرے، اور اب ذرا انکی ماؤں، بہنوں، بیٹیوں، اور بوڑھے باپوں کے حالات کے بارے میں ایک لمحہ تو سوچیے؟ ان بارہ کو تو اپنی جہالت کی سزا مل گئی، انکی رہنمائی کرنے والے "شاہینِ شریعت، رہنمائے طریقت، مجاہد ناموس و ختم رسالت  و نبوت وغیرہ وغیرہ" خودیا انکے اپنے بیٹے رتبہء شہادت پر فائز نہ ہوئے؟ سوچیے کہ سوچنا اور تفکر کرنا ہی قرانی فیصلے کے مطابق آپکو چوپاؤں سے ممتاز کرتا ہے۔

4۔  آخر میں دل سے سوچئیے گا کبھی کہ آپ مسلمان زیادہ ہیں یا بریلوی، دیوبندی، شیعہ یا  سلفی وغیرہ؟ آپکا جذبہ، فہم اور ادراک کیا اسلامی ہے یا اپنے فرقہ کی بنیاد پر محض جذباتیت کے ہی شکار ہیں؟ آپکا بھلا مطالعہ وسیع ہو ان معاملات میں، مگر کیا اس مطالعہ نے آپکا ذہن کشادہ کیا یا آپکو مزید سخت کر ڈالا اپنے خیالات، نظریات اور تصورات میں؟ میں اپنے تجربہ، مطالعہ اور مشاہدہ سے یہ بتا سکتا ہوں کہ اگر کوئی علم آپکی طبیعت میں سختی اور زعم پیدا کردے، تو وہ علم نہیں، آپکی  انا اور ضد کا چارہ ہے، اور کچھ نہیں!

آخر میں یہ کہ فتویٰ سے پرہیز کیجیے گا کہ مجھ سا رندِ خراب خان محمد قادری کو زندہ رہنے کے معاملہ میں اپنا پِیر مانتا ہے۔ 

حق حق حق!۔

پس تحریر: آپ میں سے کتنے ہیں جو اس بلاگ کی تصویر میں موجود بیان کی حقیقت میں رہنا چاہیں گے؟ خاص طور پر میرے لو/مڈل کلاس پنجابی دوست کہ جن کا طالبان کے ساتھ رومانس ہی ختم نہیں ہوچُکتا۔ "ویخ لیا جے فیر انڈین فلماں وی نئیں ویخن نوں لبھنیاں، آہو!"۔

جمعرات، 5 جون، 2014

ڈرتے کیوں ہو؟

دو واقعات، آپکی نذر۔

1988 میں، میں گوجرانوالہ کے گِل روڈ پررشتے کے خالو اکرام  کے ہاں رکا ہوا تھا، تو ایک رات، کزنز کے ساتھ اس وقت کی نہایت ہی خوفناک انڈین فلم، جو اب کامیڈی معلوم ہوتی ہے، "تہہ خانہ" دیکھ لی۔ فلم دیکھنے کے بعد کی صورتحال یہ تھی کہ کمرے کے اٹیچڈ واش روم میں جانے کے لیے بھی دو کزنز ساتھ جاتے، ایک باہر کھڑا ہوتا، اور دوسرا ٹائلٹ میں جنرل ضیاء الحق صاحب کو اکیس توپوں کی سلامی دیتا۔ اس فلم کو دیکھنے کے بعد میں کوئی  تین/چار دن مزید وہاں ٹِکا رہا، مگر مغرب کے وقت کے بعد ہم تمام کزنز ایک فوجی کمپنی کی صورت میں ہی ساتھ رہتے۔ خوف یہ تھا کہ اس فلم کا ولن، جو کہ سر تا پا پٹیوں میں ملبوس تھا اور جسکا بہترین مشغلہ لوگوں کو انکے سروں سے دبا کر ہلاک کرنا تھا، کہیں گوجرانوالہ کے گِل روڈ نہ آن نکلے۔ اس وقت تو یہ بھی خیال نہ آیا کہ اگر موصوف وہاں آئے تو شاید انکے تِکے، المشہور شہباز تکہ ہاؤس، میں بِک رہے ہوتے۔ اسی خوف میں، میں وہاں سے روانہ ہوا، اپنے قصبہ ملکوال چلا گیا، اور قریبا ایک سال تک، رات کے اندھیرے میں اس پٹیوں والی بلا کا ہی خوف پیچھا کرتا رہا۔ اس دور کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ آیت الکرسی شاید کوئی کروڑ مرتبہ پڑھ لی ہوگی۔ مگر اس بلا نے نہ آنا تھا،  نہ آئی۔ مگر خوف نے کوئی ایک سال تک جان کھائے رکھی۔

دوسرا واقعہ  میرے ساتھ 1995 کے فروری میں پیش آیا۔ میں ان دنوں پاکستان میں کنزیومر پراڈکٹس بنانے والی دوسری کمپنی میں کمپیوٹر اسسٹنٹ تھا۔ زندگی بہت مشکل تھی اور اٹھارہ سو تنخواہ میں گھسٹ گھسٹ کر ہی گزارہ ہوتا تھا۔ ہر ماہ کی آخری تاریخ کو کمپنی کی کلوزنگ ہوتی تھی اور سارے زون کا سیلز سٹاف آتا تھا۔ اس دن بے تحاشا کام ہوتا، مگر میرے لیے کشش یہ ہوتی تھی کہ اس دن کمپنی کے کھاتے سے اچھا کھانے کو مل جاتا تھا۔ کبھی کھانا طباق سے آجاتا، کبھی عثمانیہ سے، کبھی صوفی ریسٹورنٹ سے یا کبھی میلوڈی میں واقع زینوز سے۔ مجھے ایک احساس، بخدا، بھلائے نہیں بھولتا جب میں تمام آپریشن مکمل  کرنے کے بعد سے میں آفس، جو کہ اسلام آباد کے سیکٹر جی-سکس-تھری کے بازار روڈ پر سراج کوَرڈ مارکیٹ پر واقع تھا، کے ٹیرس پر کھڑا تھا۔ سردی تھی مگر کھلی کھلی دھوپ نکلی ہوئی تھی اور مارگلہ کی پہاڑیوں کی دلفریبی۔۔۔ کیا کہنے! ایک خیال ایک دم سے جو ذہن سے گزرا وہ اپنے مستقبل کے بارے میں تھا۔ کچھ مونولاگ تھا اور ایسے تھا: "1،800 تنخواہ ہے تیری، تیرا اپنا گزارا نہیں ہوپاتا۔ تیری تعلیم بھی صفر، تیرا ایکسپوژر بھی صفر، تیرے پاس سفارش  بھی کوئی نہیں،  تیرے باپ کے پاس پیسے بھی کوئی نہیں، تیرا باس (کہ جس کا نام شومئی قسمت سے "الطاف حسین تھا، اور ان پر بھی کبھی تحریر کروں گا) اپنے ذاتی اخلاق کے حوالے سے کوئی بہت مناسب آدمی نہیں اور مزاج میں عمومی بدتمیزی شامل ہے، تیری نوکری کا وارث ہے، تجھ سے زیادہ تو وئیرہاؤس کے لوڈر/ان-لوڈر کماتے ہیں، مبشر، تو ساری عمر کمپیوٹر اسسٹنٹ ہی رہے گا، اور تیرا کوئی مستقبل نہ ہوگا!"

اس خیال کے پراسس میں سے گزرتے ہوئے میں نے، یقین کیجیے، ایسا خالی پن محسوس کیا، ایسی بےسمتی محسوس کی، ایسی بےبسی اور  تاریکی محسوس کی کہ یہ سطریں لکھتے ہوئے، بخدا، مجھ پر کم و بیش ویسی ہی کیفیت طاری ہے۔

اپنی اپنی نوعیت کے ان دو واقعات میں ایک چیز مشترکہ ہے: خوف، انہونی کا خوف، زندگی میں  "اچانکیت" کا خوف، اپنی کم مائگی کا خوف، اپنی بےبسی کا خوف، اپنی بےسمتی کا خوف،  اپنی شکست کا خوف، اپنی ناکامی کا خوف۔ خوف، صرف خوف، اور کچھ نہیں!

کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی، صاحبو۔ 1995 کے بعد زندگی مزید مشکلات کا شکار ہوتی چلی گئی اور حالات  سخت سے سخت تر ہوتے چلے گئے۔ انہی چند سالوں میں سے گزرتے ہوئے اپنی زندگی گزارنے کے چند ایک فلسفے ایجاد کیے اور ان میں سے ایک یہ بھی تھا کہ زندگی چلتے ہی رہنے کا نام ہے، ٹھہر جانے کا نہیں اور اسی چلتے رہنے میں ہی عافیت ہے، تنوع اور ترقی بھی۔ سچ یہ بھی ہے کہ 1995 کے صرف آٹھ سال بعد، مشکل ترین حالات کے باوجود میں نے زندگی کی پہلی سیکنڈ ہینڈ گاڑی خرید لی اور 1995 کے قریبا بیس سال بعد، میں اسلام آباد میں، پاکستانی معیار کے مطابق، ایک کمفرٹیبل مڈل کلاس زندگی گزار رہا ہوں، اور زندگی کے اس رگڑے کے بعد، اسے اللہ کی رحمت کے ساتھ ساتھ، کچھ کچھ اپنا حق بھی سمجھتا ہوں۔

یارو، ہماری زندگی پٹری پر ایک مستقل رفتار سے چلنے والی مشین نہیں ہوتی۔یہ بلکہ ملکوال-تا-منڈی بہاؤالدین کی پرانی اور کچی سڑک پر چلنے والی بس ہوتی ہے کہ جس میں 60 لوگوں کی گنجائش کے باوجود 120 لوگ سوار ہوتے ہیں، اور وہ کچے پکے راستوں پر اپنی "کمانیاں" اور ایکسل بچاتے ہوئے بڑی احتیاط سے ہلکورے لیتے ہوئے چل رہی ہوتی ہے۔ اس  میں آپکو جابجا بریکس لگانا پڑتی ہیں،انجن گرم ہوتا ہے اور بعض اوقات "سِیز" بھی۔ بے تحاشا زور لگانے اور کوشش کرنے کے باوجود بھی آپ سپیڈ نہیں پکڑ پا رہے ہوتے، بلکہ جیسے ہی آپ سپیڈ پکڑتے ہیں، سامنے کوئی کھڈا، کوئی "گاں،" کوئی "مجھ" یا اپنی ٹوٹی سائیکل پر "سوپر، سب توں اوپر" برانڈ کا سگریٹ پیتے ہوئے ایک جاٹ جا رہا ہوتا ہے اور آپکی زندگی کی بس کو نہ صرف رستہ نہیں دیتا، بلکہ آپکے رستے کی مستقل رکاوٹ بن کر آپکے سامنے سامنے چلتا ہی جا رہا ہوتا ہے۔   یہ ہے زندگی، مجھ سے، اور آپ میں سے پڑھنے والے، لو-مڈل یا مڈل کلاس لوگوں کی۔ اور ایسی صورتحال کا سامنا ہم عمومی طور پر اپنی ذاتی، سماجی، خاندانی، معاشرتی اور پیشہ وارانہ زندگیوں میں کرتے ہی رہتے ہیں۔ اس پراسس میں، دوستو، میں آپکو اپنے تجربہ سے بتا سکتا ہوں کہ جادو صرف ایک چیز میں ہے: ہلکورے لیتے، کچی پکی سڑک پر ڈولتے ڈالتے، مگر چلتے ہی رہیں۔ یقین کیجیے کہ بسا اوقات سپیڈ سے زیادہ اہم یہ ہوتا ہے کہ آپ چل رہے ہیں اور آپ اگر چلتے ہی رہیں گے تو بھلے کچھ دیر سے ہی، مگر منڈی بہاؤالدین کے قریب تر پہنچتے ہی جائیں گے۔

میں ذاتی زندگی میں بہت سے ایسے لوگوں کو جانتا ہوں کہ جنکی  سیٹلڈ زندگیوں میں ایک بڑے واقعہ نے بھونچال برپا کر ڈالا۔ اور اسکے بعد زندگی سنبھالنے کی کوشش بہت/بہت/بہت مشکل رہی۔ چند ایک واقعات کو بہت قریب سے دیکھا اور ان کے بھنور میں موجود اپنے دوست و احباب اور دیگر لوگوں کو حتی الوسع اپنے فہم کے مطابق گفت وشنید کے ذریعہ سے معاملہ سازی اور معاملہ فہمی  کی تلقین بھی کی۔ زندگی کا سیٹلڈ ہونا، ہماری کلاس میں صاحبو، صرف ایک ڈھکوسلا  ہوتا ہے جو ایک بڑے دھکے، یا بڑھے واقعے/سانحے سے بکھر جاتا ہے۔ اس سیٹلڈ پیٹرن کے ایک دم ڈسٹرب ہو جانے سے، ہم اپنے آپکو اس انہونی کے خوف میں مبتلا پاتے ہیں جسکا ذکر میں اوپر اپنے 1995 والے واقعہ میں کر آیا۔ اپنی زندگی کے چلنے والے روٹین کے سلسلہ کے خراب ہو جانے پر ہم اپنے آپکو ہمت کے اعتبار سے برہنہ محسوس کرتے ہیں، اور ایسی صورتحال میں سب سے پہلا متاثر، ہم خود ہی ہوتے ہیں۔ اس سے بچیں، بلکہ کوشش کیا کریں کہ جب بھی کبھی ایسی صورتحال ہو، اپنی ذات اور اپنے شعور کو اپنی گرفت میں رکھیں، اور یہ ناممکن نہیں ہوتا۔ ہم انسانوں کی یہ شاید فطرتِ ثانیہ ہے کہ ہم اپنے ساتھ ہونے والے کسی بھی بڑے واقعہ کو اسکے اثرات کے سمیت بہت بڑھا چڑھا کر اپنے اوپر لاگو کر لیتے ہیں، مگر یاد رکھیے کہ ایسا کرنے سے سب سے زیادہ متاثر بھی آپ خود ہی ہوتے ہیں۔ میں نے اپنی زندگی کے ٹوٹے پھوٹے تجربہ سے ایک بات جو سیکھی، اسکا ایک اہم جزو یہ ہے کہ جب بھی کبھی ایسا واقعہ ہو، جو آپکی زندگی کو اتھل پتھل کر ڈالے، بالکل متوازی اور متوازن ذہن کے ساتھ ایک بات سمجھ کر رکھیے کہ اس واقعہ کی شدت گزر جائے گی، اور آپکی زندگی کی ایک بہت بڑی حقیت یہ ہے کہ اس نے آگے بڑھنا ہے، لہذا اسکو آگے ہی لے کر جایا جائے۔

زندگی آپکی مرضی سے بھی چلتی ہے، مگر زیادہ تر آپکی مرضی کے خلاف۔ یہ آپکی مرضی کے خلاف چلنے والے ہی مواقع ہوتے ہیں کہ جب آپ زیادہ شدت سے کوشش کرتے ہیں، اور اس کوشش کے نتیجہ میں ہی آپکے لیے مزید مواقع، اور آخری حقیقت میں، مزید بہتری بھی پیدا ہوتی ہے۔ میں جانتا ہوں کہ مصائب میں گھرے آپ میں سے میرے وہ دوست جو اپنی زندگیوں کی شدید جنگ لڑ رہے ہیں، انکو یہ بات محض پندونصائح کا ٹوکرا ہی معلوم ہوگی، مگر یاد رکھیں کہ جنگ لڑتے ہوئے جینے کا یہ وقت بھی گزر جائے گا، اور اس دوران آپکی زندگی کے حوالے سے جو بہتری کی گنجائش بنے گی، وہ عین اسی وقت کے دوران کے کیے ہوئے کام اور فیصلے ہی متعین کریں گے

انہونی کے خوف سے نجات ممکن نہیں، مگر خوف کے ساتھ ساتھ مگر حوصلہ کے ساتھ جینا عین ممکن ہے اور یقین کیجیے کہ یہ کام دلیر انسان ہی کرتا ہے، جو آپ سب میں موجود ہے۔ کچھ تو ٹٹولیے اپنے اندر تو آپ جانیں گے کہ آپکی زندگیوں میں کئی ایسے واقعات و حادثات ہوئے ہونگے کہ جن کے رونما ہوتے ہی شاید آپ نے محسوس کیا ہو کہ "استاد، گیم مُک گئی اے،" مگر انہی حالات کے جبر میں اگر آپ نے شدید سے شدید تر کوشش کی ہو تو آپ انہی حالات سے گزر بھی آئے ہونگے۔ اگر یہ کام آپ نے پہلے کر ڈالا ہے تو دوبارہ کرنے سے آپکو کون روک سکتا ہے بھلا؟

مضمون کی طوالت کی دلی معافی، مگر انہونی کے خوف میں ناکامی  کا ڈر، اس سٹوپڈ انڈین ڈراؤنی فلم، تہہ خانہ، کا وہ پٹیوں میں ملبوس ولن ہے، جو 1988سے ابھی تک تو زندگی میں ٹکرایا نہیں، اور اب اس خوف پر ہنسی آتی ہے۔ آپ بھی اپنے خوف میں سے جب گزر جائیں گے، تو یارو، ایک دن زندگی کے سفر میں ہی، آپکو اپنے خوف پر ہنسی آئے گی۔


زندگی اگر کٹھن اور محال ہے۔ زندگی میں اگر اس وقت بےسمتی کا  دورہ ہے۔ زندگی میں اگر اس وقت خالی پن اور ناکامی کا خوف ہے، آپ کو صرف تین لفظ کہنے ہیں: "ڈرتے کیوں ہو؟"