اتوار، 19 اپریل، 2015

لمحوں کا وزن، جو ساری عمر اٹھانا پڑتا ہے

سچ تو یہ ہے دوستو کہ  میں نے یہ خیال جعفر حسین، کہ جن کا لعل ابھی گدڑی میں ہی ہے، سے مستعار لیاہے۔ جعفر نے ایک مرتبہ گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ دکھ ہمیشہ کےلیے ہوتے ہیں، اور سُکھ محض وقتی۔ جعفر کی اس بات سے فورا ہی اتفاق کیا کہ یہی حقیقت ہے۔  یہ حقیقت میرے خیال کی آجکل تقریبا بجھی ہوئی آنچ پر بہت عرصہ ہلکے ہلکے سسکتا رہا۔ کل شام ایک تقریب میں شرکت کے دوران ہی یہ خیال کچھ سوختہ ہونے لگا تو سوچا کہ کندھوں سے یہ وزن  اتار دیا جائے۔

میری زندگی میں دو لمحات ایسے ہیں کہ جن کا وزن مجھے ساری عمر اٹھانا ہے۔ ان دو لمحات میں، میں نے اپنے دو محسنوں کو مناسب رویہ نہ لوٹا سکا اور اسکا قلق ہے۔ سبق کیا سیکھا، اسکا تذکرہ آخر میں آئے گا۔

سنہء1990، یا شاید ایک آدھ سال اس سے پہلے، میں اپنے قصبہ ملکوال میں تھا اور اپنے معیار کا ایک مناسب کرکٹ کا کھلاڑی تھا۔ ہماری کرکٹ ٹیپ بال سے ہوتی تھی اور سال میں کئی ایک ٹورنامنٹس بھی ہو جایا کرتے تھے۔ یہ سلسلہ بھی اب لاؤڈسپیکری تفریح اور معاشرے کے ایک خود پر جعلی طور پر مسلط کردہ مسلسل احساس گناہ میں مفقود ہو چکا۔ نوجوان اب ٹیپ بال کرکٹ کی بجائے اپنے گناہ بخشوانے میں زیادہ دلچسپی لیتے نظر آتے ہیں، اور بخشش کے سامان کے ساتھ ساتھ، اپنے تئیں گناہ کا سامان بھی مسلسل کیے جاتے ہیں۔ بہرحال۔۔۔

مناسب کھلاڑی ہونےکی وجہ سے آس پاس کے قصبات کی ٹیمیں مجھے اور چند ایک دیگر کھلاڑیوں کو "ادھار" پر بھی لےجایا کرتی تھیں ان علاقوں میں ٹورنامنٹس  کھیلنے کےلیے۔ ہم لوگ عموما ، میانی، پنڈدادنخان، ہریا اور آہلہ (یہ سب مختلف گاؤں کے نام ہیں) جایا کرتے تھے اور بعض اوقات یہاں سے کھلاڑی ملکوال بھی آ کر کھیلا کرتے تھے۔ تحریری قید میں لایا جانے والا یہ واقعہ پنڈدادنخان سے متعلق ہے۔ ایک ٹیم مجھے اور میرے دو دوستوں کو کرکٹ کھیلنے کےلیے وہاں لے گئی۔ وہاں ہم نے البیرونی کالج کے گراؤنڈ میں دو میچز کھیلے، ایک جیتا، ایک ہارا۔ اس دوران اس ٹیم کے چار لڑکوں سے اچھی سلام دعا ہو گئی۔ بعدازکرکٹ انہوں نے ہمیں خداحافظ کہا، سٹیشن تک چھوڑنے آئے اور ہم پھر ٹکٹ کے بغیر ریل گاڑی میں سوار ہوکر ملکوال پہنچ گئے۔ رابطہ کا کوئی ذریعہ ان دنوں تھا نہیں، لہذا ایک ہی صورت تھی کہ یا میں پنڈدادنخان جاتا، یا وہ ملکوال آتے۔ خیر کوئی ڈیڑھ ماہ کے عرصہ کے بعد وہ ملکوال آئے اور میرے ساتھ گئے ہوئے، میرے رشتہ دار، امجد بٹ کی دکان پر جا پہنچے، کہ وہ بھی ہمارے ساتھ ہی کرکٹ میچ کھیلنے وہاں گیا تھا۔ انہوں نے امجد سے مجھ سے ملنے کی خواہش کا اظہار کیا، اور امجد نے انہیں اپنے دیرینہ ملازم، چاچا  گاما، کے ہمراہ میرے گھر روانہ کر دیا جو کوئی ایک منٹ کی واک پر تھا۔ چاچا گاما بہت مزیدار شخص تھے، عمر میں بڑے تھے، مگر انکے ساتھ ہماری ٹیں پٹاس چلتی رہتی تھی، جسکو وہ خود بھی بہت انجوائے کرتے تھے۔ خیر ان چاروں سے، کہ جن کے نام بھی اب مجھے یاد نہیں، ملاقات ہوئی اور چاچا گاما جب جانے لگے تو انہوں نے میرے ہاتھ میں پچاس روپے کا ایک نوٹ تھما دیا اور آنکھوں ہی آنکھوں میں خاموش رہنے کا بھی کہا۔ میں سمجھ گیا۔

امجد کو میرے حالات معلوم تھے، اور اس نے پچاس روپے اس لیے بھجوائے تھے کہ میں ان چاروں کی کوئی خدمت خاطر کرسکوں۔ ملکوال میں ان دنوں "سلیم کے چاول چھولے" بہت مشہور اور "ایلیٹ کلاس" کے ہوتے تھے، آٹھ روپے کی بڑی پلیٹ آتی تھی، تو ہم پانچ لوگ چالیس روپے میں بہترین عیاشی کرنے کےبعد ڈیڑھ روپے فی کپ کے حساب سے پانچ کپ چائے بھی پی سکتے تھے۔ امجد کو معلوم تھا، میں بھی سمجھ گیا، لہذا یہی کیا اور سینتالیس روپے پچاس پیسوں میں میری عزت رہ گئی۔ باقی ڈھائی روپوں سے میں نے سٹریٹ فائٹر ویڈیو گیم کے پانچ ٹوکن کھیل لئے، قصہ تمام۔

امجد نے میرے ساتھ اس وقت کی بہت بڑی نیکی کی کہ ہمارا روایتی معاشرہ، بقول میرے کزن عمران بٹ کے، "ٹؤر (نمود ونمائش) کے جاہلانہ تصور کے ہاتھوں قیمہ بنا ہوا ہے!" وہ پچاس روپے نہ ہوتے تو ان چار اصحاب کو کھلانے کےلیے میرے پاس کچھ نہ تھا، ماسوائے اپنے گھر کے نلکے کا گیڑا ہوا پانی۔ امجد نے بعد میں سنہء2002 میں ایک کاروبار کو شروع کرنے میں میری بہت مدد کی اور میری وجہ سے تقریبا ایک لاکھ روپیہ اگلے آٹھ سال تک میرے پاس پھنسائے رکھا۔ میں اسکو وقت پر پیسے واپس نہ کرسکا کہ میرے اپنے حالات شدید مشکل اور کوشش والے تھے، اور اسی عرصہ کے دوران، اسکا معاشی دباؤ، اور میری معاشی مجبوریاں، ہماری دھائیوں پرانی دوستی پر اپنی گرد چھوڑ گیا۔ تعلق کا دھاگہ ابھی بھی قائم ہے، مگر بہت پتلا ہو چکا۔ ملکوال جانا ہوتا نہیں، جاؤں تو وہاں کی اپنی مصروفیات، مگر امجد سے رابطہ کرنا ضرور ہے، آجکل میں ہی۔ اور یہ بھی سچ ہے کہ میں ان پچاس روپوں کا وزن ساری عمر بخوشی اٹھاؤں گا،  یہ ظرف کا مطالبہ بھی ہے۔

دوسرا معاملہ 2003 کا ہے۔ معین قریشی، میرے ایک جاننے والے کے حوالے سے دوست بنے۔ انکے والد صاحب، سمیع اللہ قریشی، ہومیوپیتھک ڈاکٹر تھے اور نہایت مناسب لوگ تھے۔ میں نے معین قریشی کے ساتھ "اپنی کوشش اور اسکے سرمایہ" کی بنیاد پر ایک کاروباری شراکت شروع کی۔ معین کا کام اخباری اشتہاروں کا تھا اور اسکے ساتھ، خدا شاہد، کہ پوری نیت کے ساتھ معاملات شروع  کیے اور پھر قائم رکھے۔ ہمارے معاملات تقریبا خوش اسلوبی سے تین سے چار ماہ تک چل رہے تھے کہ کچھ اسکے آفس کے پرانے سٹاف ،کہ جن کے نام غفور اور عتیق سے مجھے یاد پڑتے ہیں، کی کان بھرائی سے اور خود میرے  ایک لالچ کرنے سے، خرابی آ گئی۔

میں اس شدید معاشی دباؤ کو برداشت نہ کرپایا جو صرف ایک سال قبل اپنی ملازمت کے ساتھ ساتھ کاروبار کرنے اور اس میں ناکامی کی وجہ سے میرے اوپر طاری تھا۔ اس شدید معاشی دباؤ میں کہ جس میں مجھے ہر ماہ پانچ بینکوں کو قرضے کی اقساط دینا ہوتی تھی، کہ جب میری تنخواہ کوئی پچیس ہزار اور ماہانہ اخراجات، اقساط سمیت، اکتالیس سے پینتالیس ہزار تھے، اور اس روٹین نے مجھے توڑ ڈالا تھا۔ معاشی دباؤ سے زیادہ بڑا نقصان ناکامی اور بےبسی کے مسلسل احساس کا تھا اور اس عجیب سے مکسچر نے مجھے لالچ کا شکار کیا اور میں نے معین قریشی کے کاروبار سے سیکھ کر خود سے وہی کام کیا (اخباری اشتہارات کا)، اس کام کو کامیاب کیا، مگر صرف چند ماہ بعد  میرے ساتھ میرے انویسٹر نے وہی سلوک کیا، جو میں چند ماہ قبل معین قریشی سے کر آیا تھا۔ خود پر جب بیتی تو معلوم پڑا کہ کیسا محسوس ہوتا ہے۔ چند ایک مرتبہ کوشش کی کہ معین سے سلام دعا کرسکوں، بیچ میں ایک دو ریفرنسز بھی ڈالے، مگر اس سے تعلق بحال نہ ہوسکا، اور آج بھی اس سے کوئی تعلق موجود نہیں ہے، مگر  اپنی لالچ، مجبوری، جلدی میں معاشی ترقی کرنے، حالات بہتر کرنے وغیرہ، اسے جو مرضی ہے نام دے لیں، کی وجہ سے ان لمحات کا وزن اٹھائے پھرتا ہوں اور شاید ساری عمر ہی یہ وزن اچانک سے بذریعہ خیال کندھوں پر آن موجود ہوتا ہے۔ کچھ دیر اسکو ساتھ ساتھ لیے پھرتا ہوں، اور پھر زندگی اپنی جانب گھسیٹ لیتے ہے، تاآنکہ اگلی مرتبہ تک کےلیے یہ خیال پھر آن وارد ہوتا ہے!۔

مجھے اپنی تان وہیں پر توڑنا ہے کہ جہاں سے شروع کیا تھا۔ ہم میں سے ہرانسان اپنی زندگی میں ایسے چند لمحات کا وزن اٹھائے پھرتا ہے، اٹھانا پڑتا ہے۔ راز، بلکہ بہتری، اس میں یہی مضمر ہے کہ لمحوں کے اس وزن کی حقیقت سے سیکھ لیا جائے، اپنی ذات کے کچھ ایسے فلسفے بنا لیے جائیں کہ جتنے لمحات کے اوزان ذہن و کندھوں پر موجود ہیں، بھلے رہیں، مگر ان میں کچھ اضافہ نہ ہونے پائے۔ میں نے اپنے انسانی تجربات میں کئی ایسے لوگ دیکھے ہیں، جو آپ، مجھ اور ہمارے آس پاس کتنوں سے ہی زیادہ خوش اور خوشحال محسوس ہوتے ہیں، انکے قریب جانے سے احساس ہوتا ہے کہ وہ مجھ پر بیت جانے والے ان دولمحات جیسے درجنوں لمحات اپنے اوپر لئے پھرتے ہیں، اور ساری عمر انہیں اسکا شعور ہی نہیں ہوپاتا۔ میں یہ تو نہیں کہتا کہ میں نے اپنے کسی افلاطونی لمحہ میں یہ شعور خود سے گھڑ لیا، مگر آپسی تعلقات کی بہت ساری جہتیں میں نے ان دو لمحات کے وزن سے ہی سیکھیں، بنائیں اور ان جہتوں میں سے زندگی کی جو سوچ برآمد ہوئی، وہ میں اب ہر بار کہتا رہتا ہوں:

دھیرج، یارو، دھیرج!۔

لمحات بھلے ذہن میں مسرتیں نہ چھوڑ کر جائیں، کہ مسرتیں ہوں بھی تو اپنے وقت آنے پر بھک سے اڑ جاتی ہیں، مگر لمحات، صاحبو، اپنا وزن نہ ہی چھوڑ کر جائیں تو بہتر ہوتا ہے۔ جتنے لمحاتی وزن آپ پہلے ہی سے اپنے اوپر لئے  پھر رہیں ہیں، ان میں اضافہ نہ کیا کیجیے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ وزن بڑھتا چلا جائے اور آپ کچلتے چلے جائیں۔ آپ چاہیں تو میری بات مان سکتے ہیں کہ یہ اختیار کلی طور پر آپکا اپنا ہے۔


آج اتوار ہے، چھٹی انجوائے کیجیے۔ 

جمعہ، 13 فروری، 2015

مجھے اسکی کہانی معلوم نہ تھی







زندگی میں، یارو، بہت سے مقام آتے ہیں۔ کچھ پر آپ ٹھہر جاتے ہیں اور کچھ آپ پر ٹھہر جاتے ہیں۔ مقام، آپ پر بیتے، یا آپ مقام پر بیت جائیں، شاید اسی عمل کے دوران انسانوں کی یادیں بنتی ہیں۔ کچھ یادیں، آہستہ آہستہ انسانی ذہن کے پردوں میں دبتی ہوئی، کتنی ہی تہوں میں چھپ جاتی ہیں، اور پھر کسی لمحے، کئی سالوں بعد ایک دم سے اپنا ہاتھ بلند کرتی ہوئی آپ کو گھسیٹ کر اس لمحہ اور مقام میں واپس لے جاتی ہیں کہ جہاں اس یاد نے خود کو تخلیق کیا ہوتا ہے، اور اس معاملے میں آپ مکمل طور بے بس ہوتے ہیں۔ مگر کچھ یادیں، سبق بن جاتی ہیں، ساری عمر، لمحہ بہ لمحہ آپ کے ساتھ رہتی ہیں، آپکی زندگی، ذہن، معاشرت اور رویہ کو بدل دیتی ہیں، اچھے کےلیے بھی، اور برے کےلیے بھی۔ یہ مضمون، صاحبو، ایک حساس  کردینے، مگر بہتر نتائج دینے والے ذاتی واقعہ پر مبنی ہے۔

سنہء2005 میں، میں ایک بڑے سفارتی ادارے کے شعبہءسیاسیات کی ایک اہم پوزیشن پر تھا۔ اور میرے بہت سے "دوست" تھے۔ جب اس ادارے سے مستعفی ہوا، تب ہی معلوم ہوا کہ وہ میرے نہیں، میری پوزیشن اور کرسی کے دوست تھے۔ انہی میں محترمی عثمان بٹ صاحب بھی شامل تھے کہ جن کے ساتھ "جگری یاری"  ملازمت کے ساتھ ہی کہیں ماضی کے سیلاب میں بہہ گئی۔ خیر، مذکورہ سال میں انہوں نے پےفون کارڈ کی ایک دھواں دار کمپنی قائم کی اور اسکا ایک زبردست دفتر اسلام آباد کے مشہور، اور بہترین پلازہ، رضیہ شریف پلازہ کے ٹاپ فلور پر قائم کیا کہ جہاں سے  اس وقت کا نظارہ بہت ہی عمدہ تھا۔ انکا ادارہ پاکستانی میڈیا پر فون انڈسٹری میں آنے والے نئے رجحانات قائم کررہا تھا اور دفتر کو کچھ بہتر طریقے سے بنا لینے کےبعد انہوں نے مجھے ایک دن اپنے دفتر کافی کے لیے مدعو کیا۔ میں جا پہنچا اور ریسیپشن پر پہنچنے سے قبل کوئی بیس قدم کی اعلیٰ گیلری-واک تھی جو آنے والے کو بلاشبہ متاثر کرتی تھی۔ اس تاثر کےبعد آپ ایک کشادہ ریسپشن پر پہنچتے تھے اور وہاں ایک نہایت ہی خوبصورت خاتون کاؤنٹر پر آپکو خوش آمدید کہتی تھیں۔ میں  جب کوئی تین چار مرتبہ ان سے ملنے جا چکا تو میری کچھ سلام دعا ان خاتون کے ساتھ بھی ہوگئی اورانہوں نے مجھے پہچاننا شروع کر دیا۔

سچ تو یہ ہے کہ مجھے بھی وہ پہلی ملاقات میں کچھ جانی پہچانی لگیں، مگر پوچھنے کی ہمت نہ ہوئی تھی۔ تین چار مرتبہ جب میں عثمان بٹ سے ملنے گیا تو کچھ سلام دعا کے بعد میں نے ان سے اس بابت سوال کر ڈالا۔ انہوں نے اپنا نام بتایا، جو میں یہاں اصل تحریر نہیں کرونگا، مگر وہ نوے کی دہائی کے وسط میں پاکستان میں آنے والے ایف ایم ریڈیو میڈیا کی ایک نہایت مشہور ریڈیو اینکر تھیں اور انہی دنوں "اسلام علیکم پاکستان" کے نام کے ایک ریڈیو سے نکلنے والے جریدہ میں انکی تصاویر مسلسل چھپا کرتی تھیں۔ "آپ سے اب اصل میں مل کر خوشی ہوئی،" میں نے کہا۔ انہوں نے ایک مسکراہٹ دی اور سر کے اشارے سے کہا کہ جائیے، بٹ صاحب آپکے منتظر ہیں۔ میں اپنی کافی، اور گپ شپ کےلیے عثمان بٹ کے پاس چلا گیا۔

اس تعارف سے اگلی ملاقات  بہت عجب تھی، بہت ہی ایسی کہ جس نے میری زندگی کا تمام زاویہ بدل ڈالا۔ آنے والے تمام سالوں، مہینوں، دنوں، گھنٹوں، منٹوں، سیکنڈوں اور لمحات کے لیے۔ اور یہ اب نہیں بدلنے والا، کبھی بھی نہیں۔

میں اس "بیس قدم کی شاندار گیلری-واک" کے بعد، اک دن جیسے ہی اس کشادہ ریسپیشن میں داخل ہوا، تو ان خاتون کی پشت میری جانب تھی، اور آپکو بتاتا ہوں کہ ایک سیکنڈ سے بھی کم لمحے میں میری نظر انکے کمپیوٹر سکرین پر پڑی۔ ایک سیکنڈ سے بھی کم کہ مجھے وہ لمحہ بالکل ایسے یاد ہے جیسے یہ تحریر کرتے میں اپنے لیپ ٹاپ کی سکرین کو دیکھ رہا ہوں۔ انکی سکرین پر دو الفاظ تھے جو انہوں نے اس ایک لمحہ میں "سیلیکٹ-ڈیلیٹ" کر دئیے۔  وہ دو الفاظ تھے:

Life Sucks!

یہ دو الفاظ نہیں، انکی زندگی کا گلہ تھے۔ انکی اس زندگی کا گلہ تھے جو وہ ایک ایسے معاشرے میں گزارنے پر مجبور تھیں جو انکی شکل صورت کی قیمت دینے پر یقین رکھتا تھا، اور ہے، مگر انکی حقیت جاننے کے حق میں نہ تھا۔ یہ وہ شکایت تھی جو وہ ہر وقت شاید اپنے آپ سے کرتی ہونگی اور یہ شکایت انکو اس خلا میں دھکیلتی ہوگی کہ جہاں انکے بہت سے خواب کرچی کرچی ہو کر بکھرے ہونگے اور انکو ان کرچیوں پر زخمی زخمی ہر روز بلاناغہ ننگے پاؤں چلنا پڑتا ہوگا۔ انکی حقیقت انکا شاندار لباس، وہ کشارہ ریسیپشن، بیس قدم کی بہترین گیلری-واک، ایک  کامیاب کاروبار میں ملازمت، انکی خوبصورتی، انکا حسن، انکی گفتگو اور انکی مسکراہٹ نہ تھی۔ انکی حقیقت یہ گلہ تھا جو انکے کمپیوٹر سکرین پر تھا اور یہ گلہ وہ صرف اپنے آپ سے کررہی تھیں، کہ کسی اور سے کر ہی نہ سکتی تھیں۔ کیونکہ مجھ سمیت، اس دفتر میں آنے والے سارے کے سارے، انکی حقیقت سے واقف نہ تھے، اور شاید جاننا بھی نہیں چاہتے تھے۔

قسم کیا اٹھائیے گا یہاں، مگر واللہ، میں اندر تک ہل گیا اور ٹوٹ گیا۔ عین اس لمحہ میں نے یہ سیکھا کہ کسی کی حقیقت جانے بغیر اس کےبارے میں رائے قائم کرنا پرلے درجے کی زیادتی اور حماقت ہوتی ہے۔ مجھے انکا "سرِ آئینہ" معلوم تھا، انکا "پسِ آئینہ" معلوم نہ تھا۔ اور انکی حقیقت انکا "پسِ آئینہ" تھا، اور "سرِ آئینہ" تو محض مجبوری کا ایک جھوٹ تھا۔ میں اور باقی سارے انکی مجبوری کے جھوٹ کے گاہک تھے اور اسی جھوٹ کو خرید کر خوش ہوتے تھے۔ انکی مجبوری کے جھوٹ سے کہیں پیچھے انکی مجبوری کا ایک سچ بھی تھا جو کوئی بھی جاننے کا شائق اور طلبگار نہ تھا۔ میں بھی نہ تھا، اگر مجھ پر وہ ایک لمحہ نہ بیت گیا ہوتا اور اس ایک لمحے میں میری ایک یاد، میرا سبق نہ بن گئی ہوتی۔

وہ خاتون وہاں سے کچھ عرصہ بعد کہاں چلی گئیں، میں نہیں جانتا۔ کہاں ہونگی، میں نہیں جانتا۔ کیا کررہی ہونگی، میں نہیں جانتا۔ انکی مجبوری کا جھوٹ کیا بدلا، میں نہیں جانتا۔ انکی مجبوری کا سچ کیا بدلا، میں نہیں جانتا۔ مگر میں جو جانتا ہوں وہ یہ ہے کہ: یارو، کسی کی حقیقت اور کہانی  جانے بغیر اسکے بارے میں رائے قائم نہ کیا کرو۔  اور اگر تم یہ کام کرتے ہوتو، اپنے آپ سے ہی جھوٹ بولتے ہو۔میں بدل گیا۔ تم بھی بدل جاؤ۔ یہی فائدےکا سودا ہے۔ یہی اصل سودا ہے۔

اس خاتون کےلیے آج بھی دل سے دعا نکلتی ہے۔ آپ بھی کیجیے۔ 


جمعہ، 2 جنوری، 2015

کرسمس اور اللہ کی ناراضگی



مبین قریشی (قریشی ہی ہیں وہ، مگر نام اصل نہیں) میرے پرانے دوست ہیں۔ مذہبی خیالات کے مالک ہیں۔ میں عموما مذہبی بحث میں "مبتلا" نہیں ہوتا مگر وہ کیا کہ "پرانی یاری، سب پے بھاری" کے مصداق، ان سے اپنے اپنے تاریخی فہم، دینی مطالعہ اور سیاسی شعور کی بنیاد پر کبھی کبھی گفتگو ہو جاتی ہے۔

سال کے آخری ہفتہ میں ان سے ملاقات ہوئی، اور انہیں میں نے اپنی دوستی میں "ہیپی کرسمس" کہا تو ان سے ایک مزیدار گفتگو کا آغاز ہو گیا، جو ہر مذہبی و سیاسی بحث کی طرح بے نتیجہ ہی رہا۔

کل شام ان سے دوبارہ ملاقات ہوئی۔ کچھ سوچ میں تھے۔ میں نے چھیڑا تو کہنے لگے کہ یار مجھے معلوم پڑ گیا ہے کہ اللہ کی ذات ہم سے ناراض ہے، انکے اصل الفاظ تھے: "وہ ہم سے ناراض ہے، تم سے ناراض ہے، مجھ سے ناراض ہے، سارے پاکستان اور پاکستانیوں سے ناراض ہے۔" میں نے وجہ پوچھی تو ایک معیاری جواب، جو آپ سب بھی لازمی سن چکے ہونگے: "اسکے دین سے دوری اور مختلف خرافات میں الجھاؤ۔" اسکے ساتھ ہی انہوں نے میری، انہیں "ہیپی کرسمس" کہنے کی بات یاد آگئی اور انہوں نے فورا مثال داغ ڈالی، یہ کہتے ہوئے کہ تم جیسے پڑھے لکھے اور "سمجھدار" لوگ بھی اگر دین کی اصل بھول جائیں اور یہود ونصاریٰ کی بنائی ہوئی رسومات کو دل سے قبول کرلیں تو باقی عوام کا کیا حال ہوگا؟ یہی وجہ ہے کہ اسکے دین سے ہم سب دور ہیں کہ خرافات میں الجھ گئے ہیں جو اسکی  (اللہ) ناراضگی کا باعث بن رہا ہے۔

میں نے سب سے پہلے، انہیں مجھکو "سمجھدار" کہنے کا شکریہ ادا کیا اور ان سے بات ختم کر دی۔ زیادہ بحث کی نہ طبیعت رہ گئی ہے، نہ میلان اور نہ ہی ذہن۔ ظرف دیکھ کر اور اپنا ظرف رکھ کر ہی سیکھنے اورسکھانے کا عمل جاری رکھتا ہوں، آپ بھی ایسا کیجیے، بہت فوکس رہتا ہے اور بہت سے تحفاتی خلجان اور ہیجان سے آپ محفوظ بھی رہتے ہیں۔

انکے جانے کے بعد ذہن میں ایک سوچ آئی۔

میں اپنے بچپن میں، ملکوال میں اپنے گھر میں سانیو کے بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی، جس کے دروازے بھی تھے، پر کرسمس کے موقع پر رضائی میں لیٹ کر مسیحیوں کے عباداتی پروگرام دیکھا کرتا تھا اور اپنے والدین سے سوال بھی پوچھا کرتا تھا کہ یہ کون ہیں، کیا کرتے ہیں وغیرہ۔ یہ بھی کہ مسیحی مذہب، اسلام سے الگ کیوں ہے، کیسا ہے، انکا اللہ کون ہے، پیغمبر وغیرہ کون تھے؟ کبھی سوالات کے جوابات ملتے، کبھی نہیں۔ بچپن میں ایک دو بار والد صاحب کے ہمراہ چرچ جانے کا بھی اتفاق ہوا، کرسمس کے موقع پر اور وہاں موجود تمام "انسانوں" کے ساتھ ہم بھی "انسان" ہی اکھٹے تھے۔ مٹھائیاں کھاتے ہوئے، انکے گیتوں سے لطف اٹھاتے ہوئے اور انکی وہ محبت کی چاشنی محسوس کرتے ہوئے جو وہ شاید اس مسلم اکثریتی معاشرے میں بانٹنا چاہتے تھے، مگر اکثریت کی ایک مخصوص سوچ کی وجہ سے اپنے دلوں اور دماغوں میں چھپا کر رکھتے تھے۔ مسیحی مولوی، فادر اسلم جیکب، کا سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے ان سے دعا لینا بھی یاد ہے اور انکا اس بات کی تاکید کرنا بھی کہ "ابے دی گل منیا کر تے پڑھائی کیتا کر۔" یہ سب موجود تھا۔ امن بھی موجود تھا۔ 

مختلف خیالات کے لوگ ساتھ ساتھ امن و محبت کے ساتھ رہتے تھے۔ معاشرے میں برداشت تھی۔ تمام فرقے اپنی اپنی فرقوی تشریحات کے مطابق اپنا حق بندگی ادا کرتے تھے اور ایک دوسرے کی محافل میں شریک ہوتے تھے۔ شیعوں کے دس محرم کے تعزیوں میں سنی اور دیوبندی شریک ہوتے تھے، بریلویوں کی محافل نعت میں دوسرے آتے اور دیوبندیوں کی ختم النبوت وغیرہ کانفرنسز میں بھی بریلوی اور شیعے شامل ہوتے۔ اہل حدیث عموما پرے پرے ہی رہتے مگر انکی آنکھوں اور اذہان میں باقی تمام کے لیے "بدعتی" ہونے کا طعنہ مفقود تھا۔

پھر پاکستان میں رہنے والے پاکستانیوں نے مذہب کے حوالے سے اپنی اپنی شناخت قائم کرنا شروع کر دیں۔ پہلے مسلم، غیر مسلم سے الگ ہوا۔ پھر فرقہ، فرقہ سے الگ ہوا۔ پہلے زبانی نفرت کا رواج چلا، اب گولی اور بم دھماکے فیصلے کرتے ہیں۔ پہلے ایک انسان کے مرنے پر مغرب کے وقت "لال ہنیری" چل جاتی تھی، اب پشاور میں ڈیڑھ سو بچے کو سر میں گولی مار کر قتل اور زبح کرنے پر معاشرے میں توجیہات ملتی ہیں۔

مبین قریشی صاحب، اللہ کی ناراضگی، کہ جس کے اشارے آپ نے بیان کیے، وہ تو میرے بچپن میں بدرجہ اتم موجود تھے، آپکے بقول، خرافات اور دیگر مذاہب کے ساتھ دوستیاں لگانے کے حوالے سے، مگر معاشرے میں میرے رب کی رحمتیں تھیں۔

اب آپ سے، لاکھوں نہیں کروڑوں مجھ سوں کو مسلمان کرنے کے چکروں میں پھرتے ہیں، اور معاشرے پراللہ کی ناراضگی بھی بظاہرا بڑھتی ہی چلی جا رہی ہے۔ آپکی داڑھی بڑھ رہی ہے، قریشی صاحب، آپکی زوجہ دوپٹے سے شٹل کاک برقعے کا سفر طے کر چکی ہیں، آپ نے اپنے بیٹے کو آٹھویں جماعت سے اٹھا کر دو سال میں حافظ قران بنا دیا، اور بیٹیوں کو  بی اے سے آگے پڑھایا نہیں کہ یونیورسٹیز کو ایجوکیشن ہیں۔ اور آپ واحد نہیں، آپ کروڑوں میں ہیں، تو بھیا، آپ کے دینی فہم کے پیمانے کے حوالے سے تو اللہ کو پاکستان پر رحمت کی بارش برسا دینی چاہیے، اتنی کہ یہاں رحمت کا سیلاب ہوتا، مگر محترمی، رحمت کا سیلاب تو تب تھا، جب آپ کا فہم اسلام کچھ کونے میں تھا، اور مجھ جیسے ہیپی کرسمس کہتے فادر اسلم کی دعائیں لیا کرتے تھے اور انہیں جوابی دعائیں بھی دیا کرتے تھے، کفر، بدعت، شرک اور کسی قسم کے دباؤ کے بغیر۔ اللہ تب ناراض نہ تھا، اللہ اب ناراض ہے۔

مگر جانتا ہوں، آپ کل مجھے کال کریں گے اور کہیں گے کہ "تو بندے دا پُتر بن ای نئیں  سکدا، ہن تینوں نئیں ملنا، تو میرا وی ایمان خراب کر دینا ایں۔" مگر آپکے فہم ایمان کے ساتھ مجھے تو کبھی کوئی مسئلہ نہ ہوا، نہ ہوگا کبھی، مگر مجھ سے کبھی یہ فقرہ نہ سنئے گا کہ میرے ایمان کو ایک مسیحی کو دعا دینے، اسکی دعا لینے، دوسرے انسان کے ساتھ بحیثیت انسان جڑنے، اسکی خوشی اور دکھ میں شامل ہونے سے نہ تو کوئی خطرہ پہلے تھا، نہ اب، نہ ہی کبھی ہوگا۔

آپکو اگر اپنے ایمان کی مضبوطی اور اسکے کمزور ہوجانے کی مسلسل فکر ہے، جو مجھے بالکل بھی نہیں، تو جناب، اللہ تعالیٰ جل جلالہ شانہُ کی رحمت کس پر زیادہ ہوئی؟

تفکر کیجیے گا، یا قران کے فیصلے کے مطابق، تفکر نہ کرکے چوپائیوں سے بدتر ہی رہیے گا؟

ہفتہ، 29 نومبر، 2014

ماں - حصہ اول (بہاول بیگم)



مولانا طارق جمیل مجھے متاثر نہیں کرتے۔ انکا بیانیہ کچھ فکشنل محسوس ہوتاہے۔ ایک زاویہ ذہن میں یہ بھی آتا ہے کہ جس نظام کے وہ اتنے بڑے داعی ہیں، اس نظام نے اگر اپنا بہترین سیمپل جنید جمشید کی صورت میں پیدا کیا ہے تو محترمین، کچھ سوالات تو بنتے ہیں۔ مگر اس بلاگ کا موضوع یہ نہیں۔ 

قبلہ مولانا کا ذکر خیر اس لیے آیا کہ آج ایک دوست نے فیس بک پر صاحب کا ایک بیان شئیر کیا جس میں بابا محمدﷺ کی اپنی والدہ سے محبت کا ذکر تھا۔ آقاﷺ چھ سال کے تھے جب ایک سفر کے دوران آپکی والدہءماجدہ حضرت بی بی آمنہؑ کا ارتحال ہوا اور آپ انکی قبر سے لپٹ کر دیوانہ وار روتے رہے۔ پھر تقریبا ستاون برس کے بعد (جی، ستاون برس بعد) جب بابا محمدؐ، تریسٹھ برس کی عمر میں حج کےلیے تشریف لے جارہے تھے تو اسی مقام سے گزرے، اور قریبا پچاس ساٹھ ہزار لوگوں کے مجمع نے بابامحمدؐ کو اسی انداز سے اپنی والدہ کی قبرمبارک پر بچوں کی طرح گرے، اپنے بازؤں میں قبر کو سمیٹے، ہچکیوں سے روتے ہوئے دیکھااور سنا۔ میں نے یہ بھی کہیں سنا تھاکہ بابامحمدﷺ کو صحابہؑ نے بازؤں سے پکڑ کر قریبا وہاں سے اٹھایا کہ آقاؐ وہاں سے اٹھ ہی نہیں رہے تھے۔

یہ ہوتی ہے ماں، اور انکے لیے ماں کا مقام کہ جو اس ہستی کی قدر کرتے ہیں۔ اور انکےلیے بھی جو جو ماں کو اپنے وجود و ذہن سے نہیں نکال پاتے۔ یہ ممکن ہی نہیں کہ میرے آپکے اور ہم سب کے وجود کا ایک ایک مسام، خون کا ایک ایک قطرہ، زندگی کا ایک ایک سانس، گزری اور گزرنے والی تمام گھڑیاں، ساعتیں، لمحے اسی ماں کا قرض لیے ہوتی ہیں کہ جس نے نوماہ اپنے خون سے میری آپکی آبیاری کی، جنم دیا، خیال رکھا کہ جب ہم بے بس، مجبور اور لاچار تھے۔ میں زندگی کے سفر میں سے کئی مرتبہ ایسے مقام سے گزرا ہوں جہاں والدہ کے ساتھ اونچ نیچ کر بیٹھا، انسان تھا، اچھی بات کہ سیکھ لیا اور اب ایک عرصہ بیتا، انکے سامنے اونچی آواز کا تصور بھی نہیں، نہ ہوگا کہ جب تک میں زندہ ہوں۔ میری زندگی، صاحبو، میری ماں کا مجھ پر قرض ہے۔ جس سے قرض لیا جاتا ہے، اسکی مہربانی تسلیم کی جاتی ہے۔ قصہ مختصر۔

مائیں اپنے بچوں کے حوالے سے سب ایک سی ہوتی ہیں۔ لہذا میرے ایک بلوچ دوست کی والدہ، بہاول بیگم (یہ اصل نام ہے) بھی میری ماں ہے۔ روایات میں گندھی، سراپا محبت، خود پر دکھ لے کر اپنے خاندان اور اولاد کو سکھ دینے والی، اپنے بچوں کی راہ تکنے اور انکے لیے دعا کرنے والی، خاندان کو اپنی ذات کے مرکز میں سمیٹ کر رکھنے والی، مصائب و آلام کو خود کی ذات پر لیے کر اپنے خاندان اور بچوں کو اپنے پروں کی نرمی اور گرمی تلے بچا لینے والی، اپنی کوکھ سے جنے ہوؤں کے لیے ڈٹ جانے والی، لڑ جانے والی، بھڑ جانے والی یہ سوچے اور جانے بغیر کہ سامنے کون کھڑا ہے، کتنا بڑا ہے، کتنا طاقتور ہے اور کیا ہے۔ بہاول بیگم روایتی بلوچ معاشرے کی وہ ماں کہ جس نے تین نسلوں کے غم دیکھے، اپنے بڑوں کا، اپنے خاوند کا اور اپنے بچوں کا۔ اتنے مصائب کہ جب آرام کرنے کی عمر آئی تو اللہ نے اس نیک روح کو زمین پر رہنے کے قابل ہی نہ جانا اور اپنے پاس بلا لیا۔ وفا اور صبر کی پیکر ایسی کہ اپنے سر کے تاج کے اٹھ جانے سے کچھ ہی ساعتوں میں دنیا کو خیرباد کہہ ڈالا۔ اتنے مصائب و آلام کہ جن سے میں واقف ہوں، واللہ، کسی پہاڑ پر ٹوٹتے تو شاید وہ بھی نہ سہہ پاتا۔

زندگی کا ساتھی پاکستان کے ساتھ وفاداری کے حلف میں وردی پہن کر پاکستان کی خدمت کرتا رہا، ریاست نے شک میں اٹھا لیا، تشدد کیا، اتنا کہ جسم برداشت نہ کرسکا، گھٹنے جواب دے گئے، دو بیٹے اپنی خاندانی نسبت کی وجہ سے اٹھا لیے گئے اور پھر ایک ہی دن ایک کی لاش حب اور دوسرے کی کوئٹہ سے ملی، دونوں بیٹے سرکاری سکول میں ملازم تھے اور سیاست و تشدد سے کوئی واسطہ نہ تھا۔ 

خاندانی نسبت ڈاکٹر نذر سے جا ملتی تھی، اور ہے، کہ جس کا خراج بہاول بیگم نےاپنے شوہر کی معذوری، بچوں کی شہادت اور دل پر کبھی نہ مٹنے والے غموں کی صورت میں ادا کیا۔ تیسرا بچہ، جو میرا دوست، میرا بھائی ہے، خود ہی اپنے آپ سے دور کر دیا کہ "جا بیٹا، پیدا کیے ہوئے دو تو مجھ سے چھن گئے، آخری کو خود سے چھینے جانے دینے کی ہمت اب مجھ میں نہیں۔" میرے اس یار نے مزاحمت کی، مگر ماں کے سامنے کچھ نہ چلی اور جب یہ سارا سلسلہ چل رہا تھا، تو بہاول بیگم بیمار تھیں، اور بیماری بھی ایسی کہ شاید جس کا علاج مشکل ہوتا، مگر اسکا اپنے تیسرے بیٹے کو نہ بتایا۔ اسے پاکستان سے باہر تعلیم کی غرض سے بھیج دیا اور اسی اثناء میں خود چھپتے چھپاتے بلوچستان سے کراچی آگئیں، اپنے شوہر کو لے کر کہ بڑا شہر ہے، اس میں چھپ جائیں گی۔ شہر نے کیا چھپانا تھا، کچھ ہی عرصہ میں زندگی کے ساتھی کا بلاوا آیا، اور ساتھ میں ہی بہاول بیگم کا بھی۔

میرا بلوچ یار، یتیم و یسیر تو ہوا سو ہوا، غریب الوطن بھی ٹھہرا ان گناہوں کی پاداش میں کہ جو اس نے کبھی کئے ہی نہ تھے۔ ماں کی قبر کی مٹی نجانے کون برابر کرتا ہوگا، نجانے کون جاکر ماں کی روح کے لیے فاتحہ پڑھتا ہوگا، نجانے کون تہواروں اور بڑے دنوں میں وہاں جا کر بہاول بیگم کو یاد کرتا ہوگا۔ 

روایت میں گندھی اولادوں کو انکی مائیں کبھی نہیں بھولتیں، میرے بلوچ یار کی زندگی کا ایک ایک سانس ماں اور اب انکی قبر کی یاد میں گزرتا ہے مگر غریب الوطنی کہ چاہنے کے باوجود زندگی دینے والی کے پاس اسکی فوتیدگی میں نہیں جا سکتا۔ جس نے مٹی کی ڈھیری سے جیتا جاگتا انسان بنایا، اسکی مٹی کی ڈھیری اسکی راہ تکتی ہوگی، مگر بے بسی کہ ماں کی قبر پر آنسؤں  کی شبنم بکھیرنے والا کوئی نہیں، کوئی نہیں جو ماں کی قبر سے لپٹ کر رو سکے اور کوئی نہیں ایسا کہ جو جا کہ کہہ سکے کہ : ماں تُو چلی تو گئی ہے، مگر گئی کہیں نہیں!۔

قبر بھی راہ تکتی ہوگی۔ مگر ماں کی قبر ہے نا، گلہ نہ شکوہ نہ شکایت، اب بھی دعا ہی کرتی ہوگی۔ اب بھی کہتی ہوگی کہ: جلدی گھر آ جایا کر، مغرب کے بعد گھر سے باہر نہ جایا کر، اپنا خیال رکھا کر، اور ماں کی بات مانا کر۔

میرے بلوچ یار کے پاس اب کوئی نہیں جو اسے اپنی دعاؤں کے حصار میں رکھتا ہو۔ میرے بلوچ یار کے پاس اب کوئی نہیں جو نمازِعصر تا مغرب مصلیٰ پر بیٹھ کر اسکی سلامتی کی دعائیں کرتا ہو۔ میرے بلوچ یار کے پاس اب کوئی نہیں جو اسکا ماتھا چومتا ہو۔

جن کے پاس ہیں، وہ قدر کریں۔ وہ اس قرض کا احسان مانیں جو انکی ماں نے انکو انکی زندگی کی صورت میں دیا ہے۔ اس احسان کو نہ ماننے والے اگر دلائل دینے کی کوشش کریں، تو صرف ایک لمحہ میرے بلوچ یار کی جگہ پر اپنے آپ کر رکھ کر سوچ لیں۔

ممتا تیری چھاؤں جیسی
یاد سرہانے سوتا ہوں
کھٹکا ہو تو ڈرتا ہوں
ماں، میں چھوٹا بچہ ہوں

میری بلوچ ماں، بہاول بیگم کے لیے سب سے دعا کی درخواست ہے۔


پیر، 24 نومبر، 2014

مائیں - ابتدائیہ

میں اپنی اور اپنے چند دوستوں کی ماؤں پر چند بلاگ تحریر کروں گا۔ اور یہ بلاگ میری طرف سے اپنے ان دوستوں کو تحفہ ہیں۔ اللہ سے کیا گلہ کرنا کہ ہماری معاشرت میں اللہ سےاسکے مجھ سے عام و گناہگار بندے کی گفتگو کو سمجھا اور تسلیم ہی نہیں کیا جاتا، اور مختلف فتاویٰ تیار ملتے ہیں، مگر اپنے رب سے ایک عاجزانہ گلہ تو کر ہی سکتا ہوں کہ مولا، ماں دیتا ہے، تو پھر واپس کیوں لے لیتا ہے؟ رحیم ہے تو کس طرح اپنے بندوں کے سروں سے مائیں اٹھا لیتا ہے؟ 

میری والدہ کا نام نسیم اختر ہے، وہ حیات ہیں، ملکوال میں رہتی ہیں، میرے لیے  ہر وقت دعا کرتی ہیں اور میں جو کہ اب اتنا ناخلف بھی نہیں رہا، انکی دعاؤں کی چھتری عموما محسوس کرتا ہوں تو کسی بھی حال میں ہوں، مسکرا کر آنکھیں بند کرلیتاہوں۔ شاید جب انکی گود میں تھا تب بھی ایسا ہی کرتا ہوں گا۔ کہتے ہیں کہ بچپن کی ڈلی عادتیں انسان کے ساتھ ساری عمر کسی نہ کسی روپ میں رہتی ہیں، کیا معلوم انکی گود میں جب بھی کبھی ڈرلگتا ہو تو انکی آواز سن کر مسکرا اور آنکھیں بند کرکے، انکے ساتھ چمٹ جاتا تھا۔ معلوم تو نہیں، مگر ایک احساس یہی ہے۔ بس سوچ کر خوفزدہ ہو جاتا ہوں کہ وہ آج میرے پاس ہیں، کل نہیں ہونگی، کہ مالک کائنات کا یہی اصول ہے۔ کہاں سے تلاش کرتا پھروں گا میں کہ جس کی ممتا بھری آواز سن کر مسکرا کر آنکھیں بند کرلیتا تھا؟

میرا یار جعفر کہتا ہے کہ مائیں پاگل ہوتی ہیں انکے لیے کہ جن کو نو ماہ اپنے پیٹ میں رکھ کر جنم دیتی ہیں۔ پیٹ میں ہو یا گود میں، اولاد کے دکھ اٹھاتی ہیں، دکھ زیادہ اور سکھ کم۔ عموما بے لوث رہتی ہیں، اور جب کبھی بہت مجبور ہوجاتی ہیں تو بیٹھ کر بے بسی سے آنسو بہا لیتی ہیں اورانکےلیے کہ جن کو جنا ہوتا ہے، سوتے جاگتے، ہر حال میں دعا کی حالت میں ہی ہوتی ہیں۔ جعفر ٹھیک ہی تو کہتا ہے، اتنا ایثار و قربانی اور مسلسل دعائیہ کیفیت، کسی پاگل پر ہی چوبیس گھنٹے طاری رہ سکتی ہے۔ مجھ سے خرد و عقل کے داعی نے تو آج تک شاید کسی کے لیے چوبیس سیکنڈ بھی مسلسل دعا نہ کی ہو۔

ماں اور اولاد کا رشتہ یارو، احساس کا رشتہ ہوتا ہے۔ شعوری الفاظ کافی ہو ہی نہیں سکتے کہ اس رشتے کو شعور کے تحت الفاظ کا لباس اوڑھانا ممکن ہی نہیں۔ اگر آپ اس رشتے کو احساس کے ذریعہ چھو نہیں سکتے تو آپ جان ہی نہیں سکتے کہ یہ رشتہ ہے کیا۔ احساس کی بات ہی تو ہے کہ جب بچہ ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے تو ماں کی بیماری کے دوران اسے سٹیم-سیلز بھیجتا ہے، اسے اپنے حصے کی خوراک روانہ کرتا ہے، پیٹ میں ہی اپنی ماں کی بھوک کو محسوس کرکے اپنے حصے کی خوراک گھٹا دیتا ہے، اسکی خوشی میں خوش اور اسکے غم میں غمگین ہوتا ہے۔ یہ دعوے نہیں، سائنسی تحقیقات ہیں، اور اگر اسکو احساس کے ہاتھ سے اگر چھوا نہ جا سکے تو اسکو محسوس کرنا ممکن ہی نہیں۔

ٹالسٹائی نے اپنے عظیم ناول "وار اینڈ پیس" کا آغاز ان الفاظ سے کیا کہ دنیا میں تمام خوش لوگ ایک ہی طرح سے خوش ہوتے ہیں جبکہ افسردہ لوگ اپنی اپنی طرح و طرز پر ہی ناخوش ہوتے ہیں۔ لوگوں کے درمیان خوشی اور افسردگی کی تقسیم سے قطع نظر، ماں ان تمام خوش یا افسردہ لوگوں میں شاید ایک ہی  طرح سے خوش اور افسردہ ہوتی ہے کہ جب اسکی اولاد خوش یا افسردہ ہو۔ 

اولاد اپنی ماں کی قدر جان ہی نہیں سکتی، اور یہ میرا حتمی خیال ہے، اور اگر کسی کو اختلاف ہوتو ان سے پوچھ لے کہ جن کے سروں پر یہ سایہ اب موجود نہیں۔ پاس موجود ہوتی ہے تو اولاد کے لیے عموما گھر کے ایک فرد سے زیادہ کی حیثیت نہیں رکھ پا سک رہی ہوتی، بیمار ہوتو دوسرے سے تیسرے دن اولاد کو اپنے کاموں سے فرست ملنا مشکل ہو جاتی ہے، سر سے چلی جائے تو میں نے بڑے بڑے مضبوط انسانوں کو اپنی ماؤں کی قبر پر لیٹے، مٹی میں لپٹے روتے دیکھا ہے۔ شاید تب ہی احساس ہوتا ہے کہ جس نے جنم دیا تھا، آج اسکی چھتر چھاؤں سر پر باقی نہیں رہی۔ کوئی نہیں رہا باقی جو راتوں جاگ کر دعا کرتا ہوں، عصر کی نماز ادا کرنے کے بعد، مغرب تک مصلیٰ پر بیٹھ کر مسلسل دعائیں کرتا ہو، رات جاگتا ہوکہ اولاد گھر آئے تو اسکا کھانا گرم اسکو ملے، بیمار ہوتو اسکی پیشانی پر ہاتھ رکھے، سرھانے بیٹھ کر پڑھ پڑھ کر پھونکیں مارے، اپنی سادگی میں علاج کی تمام کوشش کرے کہ کسی طرح اس کے پیٹ کا جنا ٹھیک ہو جائے۔ اور اولاد؟ لکھ چکا کہ دوسرے سے تیسرا دن، اور فرست ملنا مشکل!۔

انسانوں کو جوڑنے والی باتیں، انکو آپس میں توڑنے والی باتوں سے کہیں زیادہ ہیں۔ صرف یہ کہ اپنے اپنے انتخاب کی بات ہوتی ہے۔ ماں کی مشترکہ قدر اس لیے کہ ماں ہم تمام کے لیے صرف ماں ہی تھی، ہے، اور رہے گی۔ میرا آپ سے جھگڑا ہوتا ہو تو بھلے ہو، آپکی ماں کے سامنے میں بھی جھک کرمؤدب ہی کھڑا ہونگا۔ مجھ سے آپ اگر نہ جڑ سکیں تو نہ جڑیں، ماؤں کی مشترکہ اقدار کے حوالے سے، جو وہ اپنے بچوں کے لیے محسوس کرتی ہیں، میرے دوستو، میں بھی ویسا ہی ہوں، جیسا کہ آپ ہیں۔

جڑنا ہے یا ٹوٹنا ہے، آپکی مرضی ہے، مگر ماں جوڑنے والی ہے، توڑنے والے ہم اور آپ ہیں۔

بڑی بڑی باتیں تو میں نجانے کب سے لکھ اور کر رہا ہوں، اب ماؤں پر ہی کچھ کہ انکی موجودگی میں اور انکے جانے کے بعد انکی یاد اپنے اور آپ سب کے لیے موجود رہے۔

یہاں بات ختم کرونگا اور اس جمعہ، یعنی 28 نومبر بلوچ ماں کا دکھ تحریر کروں گا۔ اس سے اگلے جمعہ کو ایک سندھی ماں کی مجبوری، پھر ایک پشتون ماں کی بےبسی، اور پھر ایک پنجابی ماں کی افسردگی۔ آخر میں، میں اپنی ماں کے بارے میں لکھوں گا۔ یہ سارے خاکے حقائق پر مبنی ہونگے، سچ کے سوا کچھ نہ ہوگا۔

 اس جمعہ کو۔۔۔انشاءاللہ۔